انوارالعلوم (جلد 2) — Page 408
انوار العلوم جلد ۲ ۴۰۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) کہ رکھتی ہے اور ایک اس قسم میں شامل ہے جو وسط ایشیا میں بستی تھی اور ایک اس میں جو افغانستان میں رہتی ہے یا رہتی تھی اور انسان تو تینوں ہی ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود نے جو نبی کے ساتھ بعض لفظ لگائے ہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ آپ نے نبی کے لئے بعض نئی شرائط مقرر فرمائی ہیں بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ فلاں فلاں قسم کے نبی ہوتے ہیں اور میں فلاں قسم کے نبیوں میں شامل ہوں۔ اور جس طرح انسان کے ساتھ مغل یا سید یا پٹھان لگا دینے سے کوئی انسان انسانیت سے نہیں نکل جاتا اسی طرح نبی کے ساتھ تشریعی غیر تشریعی ، غیر امتی اور غیر تشریعی امتی کے الفاظ بڑھا دینے سے یہ مراد نہیں کہ ان تینوں قسموں کے نبیوں میں سے بعض نبی ہیں اور بعض نبی نہیں ہیں۔ اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جب قرآن کریم نے نبی کا لفظ عام طور پر بلا کسی زیادتی یا اظہار خصوصیت کے استعمال کیا ہے تو حضرت مسیح موعود نے کیوں بلاوجہ زائد الفاظ اس لفظ کے ساتھ شامل کر دیئے ہیں اگر قرآن کریم میں حقیقی یا مستقل یا تشریعی یا غیر امتی کے الفاظ انبیاء کے ساتھ نہیں بڑھائے گئے تو آپ نے کیوں بڑھائے ۔ آپ کے ان الفاظ کے بڑھا دینے سے معلوم ہوتا ہے آپ شاید اپنی نبوت کو نبوت نبوت کو نبوت خیال نہیں کرتے ہوں گے سو اس کا جواب یہ واب یہ ہے کہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ وہ کوئی بات بلا وجہ نہیں بتاتا۔ اور اسی قدر بات کرتا ہے جس کی ضرورت ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب نبی نبی ہی ہیں اور بعض خصوصیات سے ان کی نبوت میں فرق نہیں آجاتا گوشم میں فرق آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے ہر جگہ نبی کے ساتھ ان الفاظ کو استعمال نہیں کیا بلکہ صرف نبی کا لفظ استعمال فرمایا آنحضرت ا کو ایک خاص خصوصیت حاصل تھی جو اور نبیوں کو حاصل نہ تھی اور اس میں آپ کی خاص عظمت کا اظہار تھا اور اس کا اظہار کر دینا ضروری تھا اس لئے آپ کے لئے نبی کا لفظ بولتے ہوئے خاتم البنین کا لفظ استعمال فرمایا ۔ کیونکہ بغیر اس کے که قرآن کریم اس خصوصیت کو بتاتا اس کا معلوم ہونا : کا معلوم ہونا نا ممکن تھا اگر یہ لفظ نہ ہوتے تو آنحضرت کو کس طرح معلوم ہو تاکہ مجھے ایسا عظیم الشان درجہ عطا کیا گیا ہے اور پھر آپ کی امت کو کیونکر معلوم ہو تا کہ ان کے نبی کی کیا شان ہے۔ پس چونکہ ختم نبوت کا مسئلہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالٰی خود بتائے کوئی انسان نہیں بتا سکتا۔ اس لئے اسے اللہ تعالٰی نے بتا دیا ۔ باقی خصوصیات کے ذکر کی۔ چونکہ ضرورت نہ تھی ہر نبی خود اپنی حالت کو سمجھ سکتا تھا۔ اسے صرف نبی کے لفظ سے پکارا کہ لو ہم نے تم کو نبی بنا دیا۔ اب اگر اسے شریعت ملے گی تو وہ آپ سمجھ لے گا کہ میں صاحب شریعت ہوں اور اگر بلا واسطہ نبوت ملے گی تو بھی خود معلوم کر لے گا کہ نبوت بلا واسطہ ملی ہے اور اگر بالواسطہ