انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 406

انوار العلوم جلد ۲ ۲۰۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) حالات کے ماتحت بدل سکتی ہے۔ اسی طرح جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں آنحضرت اللہ سے پہلے کسی ایسے فرد کامل کی غیر موجودگی میں جو افاضہ نبوت کر سکتا ہو نبوت بلا واسطہ ملا کرتی تھی لیکن کوئی نادان اس بات کو دیکھ کر کہ پہلے سب انبیاء بلا واسطہ نبی تھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو شخص بلا واسطہ نبوت نہ پائے وہ نبی ہی نہیں کیونکہ نبوت کے مفہوم میں بالواسطہ نبوت کا پانا یا بلا واسطہ پا نا داخل ہی نہیں اور یہ نبوت کی شرائط سے باہر ہے ان حالات کی مجبوری کی وجہ وجہ سے اور خاتم خاء النبیین کی غیر غیر موجودگی کی وجہ سے بلا واسطہ نبوت کا افاضہ کرنا پڑتا تھا۔ جب حالات بدل گئے اور وہ فرد کامل پیدا ہو گیا جس کی اطاعت میں نبوت مل سکتی تھی تو نبوت کے حصول کا ذریعہ اسے قرار دیا گیا۔ پس ایسے نبی کو جس نے آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور غلامی سے نبوت حاصل کی ہو اس بناء پر کہ یہ پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نبی نہیں بنا نبیوں کی جماعت میں شامل نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آنحضرت اللہ کی نبوت کا انکار اس بناء پر کر دے کہ آپ پہلے نبیوں کے خلاف سب جہان کی طرف نبی ہو کر کیوں آئے ہیں۔ غرض نبی ہونے کے ساتھ ان دونوں باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں اور یہ صرف انسان کے اپنے یا دنیا کے یا انسان کامل کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ پس ان کے ہونے یا نہ ہونے سے نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ جن لوگوں نے اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیا ہو کہ کسی شئے کے لئے بعض شرائط ہوتی ہیں اور بعض اس کی خصوصیتیں ہوتی ہیں اور شرائط کے نہ پائے جانے سے وجود باطل ہو جاتا ہے لیکن بعض خصائص کے نہ پائے جانے سے جو خاص حالات سے تعلق رکھتی ہوں وجود باطل نہیں ہوتا۔ ان کے لئے یہ سمجھنا بالکل آسان ہو گا کہ جب کہا جائے کہ فلاں انساں میں فلاں خصوصیت ہے اور فلاں میں فلاں خصوصیت - تو اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ وہ انسان نہیں بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ لوگوں کو اچھی طرح پتہ لگ جائے کہ یہ فلاں خصوصیت رکھتا ہے اور وہ فلاں خصوصیت نہیں رکھتا۔ مثلاً اگر یہ کہو کہ زید توپ خانہ کا افسر ہے اور بکر پیادہ کا۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ زید افسر ہے تو بکر نہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہو گا کہ زید کا تعلق توپ خانہ سے ہے اور بکر کا پیادہ فوج سے ۔ یا مثلا یہ کہ اگر کہا جائے کہ زید فارسی کا مدرس ہے تو بکر عربی کا۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید مدرس ہے اور بکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ زید اور بکر دونوں مدرس تو ہیں لیکن ایک فارسی پڑھاتا ہے اور ایک عربی یا مثلا یہ ا مثلا یہ کہا جائے کہ زید نے پرائیویٹ بی اے پاس کیا ہے اور بکرنے کالج میں پڑھ کر۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید تو بی اے ہے اور بکر بی اے نہیں۔ بلکہ یہ