انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 397

انوار العلوم جلد ۲ اپنی فضیلت کا علم نہ ہو سکا۔ ۳۹۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) تیرے سوال کا جواب بھی ا دو دوسرے سوال کے جواب میں آجاتا ہے کیونکہ آپ اس اعتراض کرتے ہیں کہ کیا تیرہ سال تک مسیح موعود جو کچھ کہتا رہا غلط کہتا رہا۔ سو میں نے پہلے بتا دیا ہے کہ ایسے اور بھی واقعات ہیں کہ مسیح موعود کو جن کی سمجھ بہت مدت کے بعد دی گئی اور جب تک کامل انکشاف نہ ہوا۔ آپ عام عقیدہ کا اظہار کرتے رہے۔ اور میں انشاء اللہ آگے چل کر یہ بھی بتاؤں گا کہ باوجود ایک حد تک تاویل کرنے کے آپ کا دعویٰ شروع دن سے ایک ہی تھا اور تغیر ایک ایسی قسم کا تھا جس کے ہونے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ انشاء اللہ تعالیٰ دوسری فصل اس باب میں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کسی قسم کی تھی ابتدائے مضمون میں میں نے جناب مولوی صاحب کے مضمون کا خلاصہ دو سوالوں میں کیا تھا۔ اول یہ کہ آیا حضرت صاحب کے دعوے پر دو زمانے آئے ہیں یا ہمیشہ آپ اپنی نبوت کو ایک ہی قسم کی خیال کرتے رہے۔ کیونکہ اسی سوال کے حل ہونے پر یہ فیصلہ ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کن تحریرات سے ہمیں اس امر کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ آپ کا مذہب نبوت کے بارے میں کیا تھا کیونکہ بغیر اس کے وقت ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص اگر حضرت صاحب کی کتاب سے وفات وحیات مسیح کا مسئلہ دریافت کرنا چاہے اور اس امر کا فیصلہ نہ کرے کہ اس مسئلہ میں آپ کے دو عقیدے تھے۔ تو وہ براہین احمدیہ کو دیکھ کر ٹھوکر کھائے گا۔ اور سمجھے گا کہ حضرت صاحب کی تحریروں میں اختلاف ہے یا یہ کہ براہین کو پہلی کتاب خیال کر کے اسے محکم قرار دے گا۔ اور بعد کی کتب کی تاویلات کرنی شروع کر دے گا۔ لیکن اگر اسے خود حضرت صاحب کی کتب سے معلوم ہو جائے گا کہ اس مسئلہ میں آپ کے دا آپ کے دو عقیدے رہے ہیں۔ ایک پہلے رائج الوقت عقائد کی بناء پر ۔ اور ایک بعد میں انکشافات سماریہ کی بناء پر ۔ تو اسے اب کوئی دقت نہ رہے گی اور وہ براہین احمدیہ کے بعد کی کتب سے اس مسئلہ کی تحقیقات کرے گا۔ اور یہی حال تمام مسائل کا ہے ۔ مثلاً نماز ، نکاح ، جنازہ و غیر کا ر من المسائل کا کہ ایک وقت میں ان کے متعلق اور فتوی دیا ہے۔ اور دوسرے وقت میں اور اور پس جب تک انسان یہ نہ معلوم کرے کہ ان مسائل میں آپ نے دو مختلف اوقات میں مختلف احکام