انوارالعلوم (جلد 2) — Page 384
انوار العلوم جلد ؟ ۳۸۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) اس سے ہے اور اس کے ذریعہ سے حاصل ہو سکتی ہے یہ درجہ صرف اور صرف آنحضرت ا کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے پس یہ الہام بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتا ہے جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس وقت مستقل نبوت اس لئے بند کر دی گئی ہے کہ اب سب برکتیں انسان آنحضرت کی غلامی میں حاصل کر سکتا ہے اور براہ راست موہبت کی کوئی ضرورت نہیں رہی چنانچہ اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی ہے جسے ملا کر اس کے معنی اور بھی صاف ہو جاتے ہیں اور وہ معنی خود حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۹ ۲ صفحه ۹۶ پر آپ یہ الهام درج کرتے ہیں۔ کے يُلْقِي الرُّوحَ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبْدِهِ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ تُمْحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ۔ اور خودیوں ترجمہ فرماتے ہیں جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے۔ اور یہ تو تمام برکت محمد ال سے ہے پس بہت برکت والا ہے جس نے اس بندہ (یعنی مسیح موعود جیسا کہ انجام آتھم اور اربعین میں فرمایا ہے) کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی ۔ ९९ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ خود حضرت مسیح موعود نے بھی برکة کے معنی نبوت کئے ہیں اور پہلے الہام کو ملا کر اس کے یہ معنی کئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منصب نبوت بخشتا ہے۔ لیکن یہ بخشش اس کی اور موہبت اس کی براہ راست نہیں ہوتی۔ بلکہ آنحضرت کے فیضان کے جاری کرنے سے ہوتی ہے اور وہ نبوت کی برکت آنحضرت کے طفیل سے ہوتی ہے اور آپ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسے غرض کہ اس الہام کے پہلے حصہ میں اللہ تعالی نے صاف طور پر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ا کا رتبہ ایسا بڑا ہے کہ ہر ایک برکت آپ سے حاصل ہو سکتی ہے براہ راست موہت کی ضرورت نہیں خواہ برکت نبوت ہو خواہ کسی اور قسم کی برکت۔ جو انسان آپ کی اطاعت کرے وہ دنیا میں کبھی نامراد اور ناکام نہیں رہ سکتا بلکہ ہمیشہ کامیاب اور با مراد ہو گا اور ایسا درجہ اور کسی پچھلے نبی کو ہرگز نہیں ملا کہ سب برکتیں اس کے واسطہ سے ملیں بلکہ آپ سے پہلے نبوت موهبت الهی سے براہ راست ملتی تھی نہ بتوسط انبیائے سابقین۔ پھر اس الہام کے دوسرے حصہ میں فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّم فرما کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ یہ دعوی ہی نہیں کہ آنحضرت ا کے طفیل سے ہر ایک قسم کی برکت مل سکتی ہے بلکہ