انوارالعلوم (جلد 2) — Page 383
انوار العلوم جلد ۲ ہے ہے گل ۳۸۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) ال سے ا نہ نہ مل سکتی ہو ۔ كُلُّ بَرَكَةٍ کے معنی عربی عربی زب زبان میں اہی ہی ہیں کہ جس قدر برکات ہیں ان میں سے ہر ایک برکت مل سکتی ہے کیونکہ جب لفظ کل کا مضاف کسی نکرہ مفرد کی طرف ہو تو اس سے اس کا ہر فرد مراد ہوتا ہے۔ پس اس الہام کے یہی معنی ہیں کہ جس جس چیز کو برکت اور فضل کہہ سکتے ہ سکتے ہیں وہ آنحضرت ا کے فیضان سے مل سکتی ہے خواہ دنیاوی ہو خواہ دینی ، خواہ روحانی ہو خواہ جسمانی ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی برکت کی قید نہیں لگائی اور کسی برکت کا استثناء نہیں کیا۔ پس وہ کل برکات جو انسان پا سکتا ہے انسان کو رسول اللہ ا سے مل سکتی ہیں۔ اور نبوت سے بڑھ کر برکت اور کیا ہوگی پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ نبوت آنحضرت اللہ کی اتباع سے نہ ملے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةِ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہر ایک برکت آپ ہے اور آپ کے فیضان نے جاری ہے اور آپ کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔ پس اس الہام میں اشارہ ہے اس طرف کہ آنحضرت ا کا فیض ایساد سیع ہے۔ اور آپ کا کمال اس درجہ ترقی کر چکا ہے کہ اب ہر ایک برکت آپ سے مل سکتی ہے- برکات کے حصول کے لئے کسی اور ذریعہ کی ضرورت نہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل لغو نہیں۔ جبکہ آنحضرت ا کی اتباع سے اور آپ کی فرمانبرداری سے اور آپ کی غلامی سے ایک چیز حاصل ہو سکتی ہے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ براہ راست ملے۔ غرض چونکہ نبوت کا انعام انسان کو آنحضرت ا کے فیض سے حاصل ہو سکتا ہے اور آپ کو وہ قرب الہی حاصل ہے جو آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ اس لئے براہ راست موہت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے جو رتبہ آپ کو ملانہ آدم گونه نوح گونہ ابراہیم گونه موسی کو نہ عیسیٰ کو ( علیهم السلام) کسی کو نہیں ملا۔ اور حضرت آدم کی اولاد میں سے ایک بھی بیٹا ایسا لائق نہیں ہوا جیسے ہمارے آنحضرت اللہ تھے آپ نے اطاعت الہی میں وہ حالت پیدا کی جو کوئی نبی نہیں پیدا کر سکا اور دربار شہنشاہ ارض و سما سے ان انعامات کے مستحق ہوئے جن کا کوئی اور نبی مستحق نہیں ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ کی نسبت فرماتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلَّى ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (انجم ۱۰۰۹) اور حضرت مسیح موعود کو فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پس اس اتہام سے ثابت ہے کہ یہ درجہ صرف آنحضرت ا کو ہی حاصل ہے کہ آپ کی اطاعت سے انسان انعام نبوت حاصل کر سکتا ہے اور آپ کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے پھر بھی بہت سے نبیوں سے افضل ہو سکتا ہے اور آپ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کی نسبت کہا جا سکے کہ كُلُّ بَرَكَةِ مِنْهُ ہر قسم کی برکت