انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 363

انوار العلوم جلد ۲ ۳۶۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے " (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۴) اس عبارت سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کم سے کم مسیح کے برابر تو سمجھتے ہیں لیکن آگے چل کر آپ فرماتے ہیں " پس خدا د کھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنی خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں " پھر یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سنو ! اسی جگہ حضرت مسیح موعود آگے چل کر فرماتے ہیں ”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔ عزیزو! جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم جو کچھ ہے پہلا ہے خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔ اب خدا سے لڑو ۔ ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بھی۔ تا آنحضرت الا کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۵۹) - مذکورہ بالا عبارت میں آپ نہ صرف یہ کہ مسیح سے اپنے افضل ہونے کا ذکر فرماتے ہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے حضرت مسیح سے افضل ہونے پر اعتراض کرنا شیطانی و با وسوسہ ہے اور یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں کہلا سکتے خدائے تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں جیسا کہ آپ ہمیشہ فرماتے آئے ہیں آپ نبی بھی ہیں اور آنحضرت ا کے امتی بھی۔ اور آپ نے اس جگہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ امتی نبی ہونا آپ کے درجہ کے گھٹانے کے لئے نہیں بلکہ "تا آنحضرت ا کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو " (حقیقۃ الوحی (12) پس امتی نبی ہونا کمی درجہ کی علامت نہیں بلکہ علو درجہ کی علامت ہے اور ایسے نبی کے ذریعہ سے آنحضرت ا کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہوتا ہے۔ اب میں پھر اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور ہر ایک انصاف پسند کو متوجہ کر کے کہتا ہوں کہ کیا جو حوالہ میں نے اوپر نقل کیا ہے اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ حقیقۃ الوحی میں آپ اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیتے ہیں۔ پس یہ کیسی الٹی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ تریاق القلوب