انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 347

۳۴۷ ہے اور اپنی نبوت کے حقیقی ہونے سے انکار کیا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ جن لوگوں کو میری اس تحریر سے ایسی غلطی کی ہے وہ چند دن کو خود حضرت مسیح موعود کو کافر نہ کہنے لگیں کیونکہ جس طرح میں نےلکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جائیں کہ ایک شخص بناوٹی اور نقلی نبی نہ ہو۔تو میں آپ کوحقیقی نبی مانتا ہوں حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنے ایک شعر میں اسی طریق کو اختیار کیا ہے اورفرماتے ہیں کہ بعد از خدا بعشقِ محمدؐ مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم یعنی اے لوگو! میں تو آنحضرت اﷺکا ایسا عاشق ہوں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد مجھے انہی کاعشق ہے اور آپ کے عشق میں میں سرشار ہوں پھر بھی جو تم مجھے کافر کہتے ہو تو اگر کفراسی کانام ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔اس شعر میں حضرت صاحب نے کفر کے ایک معنی فرض کئے ہیں اور فرمایا ہے کہ اے لوگو !گر تمهارے خیال میں کفر کے یہ معنی ہیں تو میں پھرسخت کافر ہوں اور یہ عبارت ویسی ہی ہے جیسی کےمیں نے اپنے رسالہ میں لکھی ہے کہ اگر حقیقی نبوت کے وہ معنی نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے خودکئے ہیں بلکہ اس کے علاوہ اور کوئی معنی ہیں مثلاً یہ کہ جو نبوت بناوٹی یا نقلی نہ ہو تو ان معنوں کے لحاظ سے میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔پس جو شخص میری اس عبارت سے یہ مطلب نکالتا ہے کہ اس میں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ آپ حقیقی نبی تھے اسے حضرت مسیح موعودؑ کے مذکورہ بالا شعر سے ضرور یہ مطلب نکالنا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ کافر تھے (نعوذ باللہ من ذلک ) مگر حضرت مسیح موعودؑکے اس شعر کے یہ معنی کرنے کہ حضرت صاحب نعوذ بالله من ذلک اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں یا میری اس عبارت کے یہ معنی کرنے کہ اس میں میں حضرت مسیح موعودؑ کی حقیقی نبوت کا اعلان کر تاہوں قواعد زبان کے لحاظ سے ہرگز ہرگز جائز نہیں اور جو شخص ایسی کھلی عبارت کے الٹے معنی کرتاہے وہ دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے یا اس کی عقل ایسی موٹی ہے کہ وہ نہایت واضح عبارتوں کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتا۔حضرت صاحب کے اس شعر کے علاوہ ایک اور حدیث بھی میں اس جگہ لکھ دیتا ہوں جس کے معنی اگر انہی قواعد زبان سے کئے جائیں جو میرے مذکورہ بالا فقرہ کے معنی کرنے میں استعمال کئے گئے ہیں تو کل انبیاء و علماء اور سب مسلمانوں کو کافر قرار دینا پڑے گا۔مسلم میں زید بن خالد جہنی