انوارالعلوم (جلد 2) — Page 345
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم حقيقۃالنّبوّة خواجہ صاحب کے رسالہ ”اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب‘‘ کا پچھلے دنوں رسالہ القول الفصل میں مَیں نے جواب شائع کیا تھا اور مجھے امید تھی کہ اس رسالہ کے بعد کم سے کم میرے مذہب کے متعلق غلط فہمی پھیلانے کی جرأت نہ کی جائے گی اور آئندہ کے لئے یہ بحث بند ہو جائے گی اور میرا ہی نہیں بلکہ کل انصاف پسند طبائع کا یہی خیال تھا اور اس رسالہ کو پڑھنے والے بہت سے غیر احمدی بھی اس بات کے مقرّ تھے کہ اب اس بحث کا خاتمہ سمجھنا چاہیے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بعض اصحاب کی مخالفت اس قدر ترقی کر گئی ہے اور ان کی عداوت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ میری صاف بات انہیں چیستان معلوم ہوتی ہے اور میرا واضح کلام ان کے لئے ایک پہیلی سے بڑھ کر وضاحت نہیں رکھتا چنانچہ میرے اس رسالہ کے جواب میں جناب مولوی علی صاحب نے ’’القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار\" نامی ایک رسالہ شائع کیا ہے جس میں اس کے سب مضامین کے متعلق تو نہیں۔مگر مسئلہ نبوت کے متعلق کچھ بحث کی گئی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو ناقص ثابت کرنے کے لئے پورا زور مارا گیا ہے اور آخر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میاں صاحب فی الواقع مرزا صاحب کو حقیقی نبی مانتے ہیں۔جن لوگوں نے میرارسالہ القول الفصل پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کیسے صاف لفظوں میں میں نے حضرت مرزا صاحب کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعودؑنے حقیقی نبوت کے معنی یہ کئے ہیں کہ جس کا پانے والا نئی شریعت لائے۔تواب بتاؤ کہ باوجود حضرت مسیح موعود ؑکے عامل بہ شریعتِ اسلام ہونے کے اور با و جو د میرے دعوائے اسلام کے میں حضرت مرزا صاحب کو نئی شریعت لانے والا کیو نکر کہہ سکتا ہوں میں نے خواجہ صاحب کو اس رسالہ میں