انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 337

انوار العلوم جلد ۲ ۳۳۷ اللہ تعالی کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اللہ تعالیٰ کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے میں نے جلسہ کے ایام میں ایک شخص سے سنا تھا کہ چند غیر مبائعین جولاہور کے جلسہ سے فارغ ہو کر قادیان آئے ہیں سناتے ہیں کہ گویا میں (مرزا محمود احمد) نے گورنمنٹ کو لکھا ہے کہ اگر مجھے خلیفة المسیح تسلیم کر لیا جائے تو میں گورنمنٹ کی ہر طرح مدد کر سکتا ہوں اس پر گورنمنٹ نے جواب دیا کہ گورنمنٹ مذہبی باتوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتی اور یہ جواب خواجہ کمال الدین صاحب نے خود دیکھا ہے۔ میں نے اس بات کو سن کر چنداں قابل توجہ نہ سمجھا کیونکہ میں نے خیال کیا کہ یہ بات خواجہ صاحب کی طرف کسی نے یونہی منسوب کر دی ہو گی ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جو اشاعت اسلام اسلام کرنے کا مدعی ہے اور اسلام کا فدائی اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے وہ میری مخالفت میں ایسا بڑھ جائے گا کہ تمام دعوئے ایمان ترک کر کے جھوٹ اور دروغ کو استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکے گا۔ اور اسی خیال پر میں نے اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دیا ۔ لیکن چند روز کا عرصہ ہوا کہ بٹالہ سے مولوی فضل الدین صاحب مختار عدالت کا بھی اس مضمون کا ایک محط میرے نام آیا کہ ایسی ایسی بات بہت کثرت سے پھیلائی جا رہی ہے اس کا کچھ جواب ہونا چاہئے مگر چونکہ اس خط میں مولوی صاحب موصوف نے یہ نہیں لکھا تھا کہ کون پھیلانے والا ہے اس لئے میں پھر خاموش رہا۔ مگر آج نماز عصر کے بعد شیخ محمد حسین صاحب گرد اور دھرم کوئی نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ان سے ان کے ماموں شیخ نور احمد صاحب بی اے پلیڈر چیف کورٹ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ آ۔ آپ سے جو چھ تو کچھ انہوں نے بیان کیا اسے لکھ دیں چنانچہ انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر لکھ دی۔ میں اور میر عابد علی شاہ صاحب اور حسین بخش جٹ سکنہ شہزادہ مسجد کشمیریاں موسومہ صمد و والی میں بمقام دھرم کوٹ رندادہ مذہبی گفتگو کر رہے تھے کہ شیخ نور احمد صاحب پلیڈ ر ایبٹ آباد نے