انوارالعلوم (جلد 2) — Page 334
۳۳۴ ۱۔اس تحریر سے یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنی خیال کرتے ہیں۔کیونکہ یہاں محدث کالفظ اس لئے بڑھایا۔۲۔یہ لفظ استعارہ کے طور پراس قطعہ سمندر پر اطلاق پاتا ہے جہاں سے موتی نکلتے ہیں۔منہ ۳۔مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ جو لوگ مسیح موعود کی نبوت کا درجہ گھٹانے کے لئے صحابہ اور پچھلے ولیوں کونبی قرار دیتے ہیں۔چند دن کے بعد اس بناء پر کہ مسیح موعود نے اپنی جماعت کو صحابہ سےتشبیہ دی ہے۔اپنے میں سے بعض کو بھی نبی نہ کہنے لگ جائیں۔منہ ۴۔اے کاش مسیح موعود کی نبوت پر اعتراض کرنے والےآ نحضرت ﷺ کی عظمت اور شوکت پر غور کرتے تو انہیں یہ ٹھوکر نہ لگتی آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالی نے وہ رتبہ دیا ہے کہ آپ کی غلامی اور اتباع سے بارگاہ الہٰی میں مقرب ہونے والا انسان اگر یہ دعوی ٰ بھی کرے کہ میں آپ کی اتباع سے اس درجہ تک پہنچ گیاہوں کہ پہلے سب نبیوں سے افضل ہو گیا ہوں تب بھی جائے تعجب نہیں پھر بھی جائے تعجب نہیں۔اس بات میں کہ ایک شخص آپ کی اتباع سے نبی ہو گیا۔اور موجودنبی ہونے کے آپ کی غلامی سے آزادنہ ہوابلکہ جس قدر اس کا درجہ بڑھا اسی قدر آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا ہو گیا۔بعید از امکان ہونے کی کیاوجہ سہی کاش لوگ سمجھتے کہ مسیح موعود کی نبوت کے انکار سے تو رسول ﷺ کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعھما الاتباعی یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو سوائے میری فرمانبرداری کے ان سے کچھ نہ بنتا۔پس اگر آپ کی امت میں سے ایک ایسا نہ ہوتا جس کو خدا تعالی جَرِیُ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ فرماتا یعنی الله کا نبی انبیاء کے حلول میں تو آنحضرت ﷺ کادعویٰ (نعوذ باللہ من ذالک) ایک دعوی بلادلیل بن جاتا اور کوئی کہہ سکتا تھا کہ (نعوذ باللہ من ذالک) رسول اللہ ﷺ نے ایک بلا دلیل بات صرف فخر کے طور پر کہہ دی ہے لیکن اللہ تعالی رسول کریم کے لئے برا غیرتمند ہے۔ایک شخص کو بہت سے نبیوں کے نام سے مخاطب کیا اور باقی نبیوں کے نام لینے کی بجائے فرما دیا جَرِیُ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ۔اور پھر اسے اس کام پر کھڑا کیا کہ آنحضرتﷺ کی عظمت کو ظاہر کرے اور آپ کی غلامی کا اقرار کرے اور چونکہ اس شخص کو سب نبیوں کے نام سے یاد کیا تھا۔اس لئے اقراری غلای سے ثابت ہوا کہ اگر اصل انبیاء ہوتے تو وہ بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے اقرارغلامی کرتے۔اور اس طرح آپ کا یہ قول کہ لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعھما الاتباعی عملی رنگ میں پورا ہواپس مسیح موعود کی نبوت سے انکار کرنے والا در حقیقت آنحضرت ﷺ کی بات کو باطل اور بے معنی قرار دینے والا ہے نعوذباللہ من ذالک۔خوب یاد رکھو کہ مسیح موعود کے نبی اور پر عظیم الشان نبی ہونے میں ہی آنحضرت ﷺ کے قول کی صداقت ہے پس ہم اس محبوب خدا کی تکذیب کس طرح کر سکتے ہیں۔مرزا محموداحمد ۵۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود خواجہ صاحب کو تو کتب احادیث و سیر پر عبور نہیں ہے انہوں نے حکیم محمد حسین کے رسالہ احمدمیں پیش کردہ روایات کی بناء پرغالباً لکھ دیا ہے لیکن حکیم صاحب نے جو روایات لکھی ہیں وہ بھی انہوں نے اصل کتابوں سے نہیں بلکہ ادھر ادھر دیکھ کر لکھ دی ہیں اس لئے ٹھوکر کھائی ہے بات یہ ہے کہ دو تین روایات جو حکیم صاحب نے لکھی ہیں ان میں سے پہلی دونوں واقدی کی ہیں جس نے ہزاروں جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں اور حدیثیں بنانے میں اس کا پا یہ اعلیٰ درجہ کے کذ ابوں میں ہے تیسری روایت کا ایک راوی ابو غزیہ محمد بن موسیٰ ہے جس کی نسبت امام بخاری کافتویٰ ہے کہ اس کی بیان کردہ حدیثوں میں بہت سی غیرثابت ہیں۔ابن حیان کہتے ہیں یہ حدیثوں کا چور ہے بجھوٹی حد میں لے کر ثقہ راویوں کا نام ان کے ساتھ لگادیتا ہے اور ابو حاتم کہتے ہیں ضعیف ہے یہ تو آئمہ حدیث کی رائے ہے ابو غزیہ کی نسبت مگر اسی پر بس نہیں۔اس حدیث کا ایک راوی سعید بن زید ہے جس کی نسبت آئمہ حدیث یحییٰ بن سعید سعدی اور نسائی وغیرہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ضعیف ہے اس کی حدیث حجت نہیں ہو سکتی۔پس امام الوضاعین اور سارق الاحادیث کی روایات سے صحیح روایات کا انکار کس طرح کیا جاسکتا ہے چنانچہ بیہقی ابن عساکر کی روایت الخصائص الکبریٰ میں درج ہے کہ عبد المطلب نے آپ کا نام محمد رکھا اسی طرح حاکم نے روایت کیا ہے کہ آپ کی والدہ کورؤیا میں آپ کانام محمد رکھنے کا حکم ہوا اور بیہقی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اسی کی تائید میں ابن ہشام و غیره مؤرخین کی تحقیقات ہے پس صحیح احادیث اور تحقیقات مورخین کے مقابلہ میں وضاعین کی روایات کی کوئی قدر نہیں ہو سکتی۔واقدی کی نسبت تو آئمہ حدیث لکھتے ہیں کہ جب روایت کے مقابلہ میں صحیح حدیث نہ بھی ہو تب بھی اس کی روایت قابل سند نہیں ابو طالب کے جس قصیدہ میں لفظ احمد آیا ہے اس کی | نسبت خود جس مؤرخ نے لکھا ہے ساتھ ہی لکھ دیا ہے کہ اس قصیدہ کے اکثر اشعار کی نسبت اہل علم کا فیصلہ ہے کہ درست نہیں ہیں۔مرزا محموداحمد ۶۔۷۔مفصل دیکھو رسالہ تشحیذ اپریل ۱۹۱۰ء