انوارالعلوم (جلد 2) — Page 328
انوار العلوم جلد ۲ ۳۲۸ والقول الفصل بنائے گئے تھے کہ گویا موجودہ نسلوں میں ایک ہی انسان ہے ایسا شخص ایسے مجمع میں اس بد دعا کے بعد کھڑا ہوتا ہے۔ جبکہ ابھی کوئی خلیفہ مقرر نہ تھا جن کو آپ اکابر کہتے ہیں ان کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہے جو خود ہمیشہ اپنا رعب بٹھانے کے درپے رہتی تھی۔ لیکن جب وہ شخص کھڑا ہوتا ہے تو اس ہزاروں کے مجمع میں سے ایک شور بلند ہوتا ہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔ لیکن شائد کوئی کہے کہ چند شریروں نے منصوبہ سے ایسا کر دیا۔ نہیں اس ہزاروں کے مجمع سے کوئی شخص ان آوازوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ اور سب کے سب اپنی خاموشی سے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اپنے خاص دوستوں سمیت مولوی صاحب وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ صبح کی بد دعا کے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا ہونا اگر ایک الہی شہادت نہیں تو اور کیا ہے ؟۔ اگر میری بیعت کے بعد ان سے یہ سلوک ہوتا اور میری مرضی یا میرے علم سے ہو تا تو یہ ایک اور معاملہ تھا۔ اس میں ان کی نہیں میری ذلت ہوتی چنانچہ جب مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک دو پانچ چھ سالہ بچوں نے نادانی سے آپ پر کنکر پھینکنے کا ارادہ کیا تو میں نے درس میں لوگوں کو سخت ڈانٹا کہ گو بچہ نادان ہو لیکن میں والدین کو اس کا ذمہ دار قرار دوں گا۔ بیعت کے بعد مریدین کا سلوک اور شئے ہے۔ لیکن بیعت سے پہلے اس بد دعا کے بعد وہ سلوک ضرور ایک الہی نشان تھا۔ اور خواجہ صاحب کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اب اگر وہ قادیان آئیں تو ان سے کسی مبائع سے سختی کروا کر کہہ دیا جائے گا کہ ان کی ذلت ہوئی یہ صرف بدظنی کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ زیادہ تدبر سے کام لیں گے تو دونوں معاملات میں ان کو فرق نظر آئے گا۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ جلسہ کو بارونق کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی شخص نے غلطی سے ان کے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے بات یہ ہے کہ میری طرف سے یا انجمن کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا نہ کسی اور مبائع کی طرف سے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انجمن احمد یہ اشاعت اسلام نے کچھ اشتہار مبالعین میں تقسیم کرنے کے لئے شائع کئے تھے اور کچھ بعض آدمی امر تسر اور لاہور سٹیشنوں پر اس غرض کے لئے گئے تھے کہ لوگوں کو روک کر لاہو را تار لیں یا لاہور لے جائیں۔ بعض مہمانوں سے جھگڑا بھی ہو گیا۔ لیکن اللہ تعالٰی کا فضل ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ غلطی سے اصرار سے بڑھ کر تکرار تک نوبت پہنچا دیتے تھے کہ آپ لاہو ر کیوں نہیں جاتے۔ لیکن کسی قسم کا رنگہ نہ ہوا۔ اور لوگوں کو ہنسی کا موقعہ نہیں ملا۔ شاید کسی شخص نے اس واقعہ کو میری طرف منسوب کر دیا ہو مگر حق یہی ہے کہ یہ واقعہ آپ کے دوستوں کی طرف سے ہوا ہے