انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 324

انوار العلوم جلد ۲ ۳۲۴ القول الفصل آپ کے لئے کافی نہ تھی آپ نے خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ کیا خلیفہ غلطی سے مسنون ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا فیصلہ ماننا شرط ہو جو غلطی سے مصنون اور محفوظ ہو تو آپ بتائیں کہ کسی انسان کا فیصلہ آپ مانیں گے آنحضرت ا جیسا انسان جو کل کمالات انسانیہ کا خاتم ہے فرماتا ہے۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْحِ النَّبِيِّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَأَنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضُهُمْ أَنْ يَكُونَ ابْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَاحْسِبَ اللَّهُ صَادِقُ صَادِقُ فَاقْضِ لَهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُ مَا هِيَ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَحْمِلُهَا أَوْ يَذَرُهَا ۔ (مسلم کتاب الاقضيه باب الحكم بالظاهر و اللحن بالحجه) ترجمہ : ام سلمہ (ام المؤمنین) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت ا ایک دفعہ مکان کے دروازہ کے پاس چند آدمیوں کا باہمی مقدمہ کی بابت شور و شعب سن کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمانے لگے میں ایک بشر ہوں (عالم الغیب نہیں) لوگ میرے پاس مقدمے لے کر آتے ہیں سو ممکن ہے کہ ایک فریق بات کرنے میں زیادہ ہوشیار ہو اور اس کی باتوں کی وجہ سے میں اسے سچا خیال کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں سو یاد رکھو کہ اس طرح سے اگر کسی شخص کو مسلم کا حق دلا دوں تو یہ مال آگ کا ٹکڑا ہے اب ؟ اہے اب چاہے تو اسے اٹھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے لا - پس کیا آپ آپ کے کے فیصلہ کو بھی رد کر دینا چاہئے کہ ممکن ہے آپ سے غلطی ہو ہو گئی گئی ہو۔ ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ ا يَجِدُوا فِي انْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تسليما - (انساء : ۱۶) یعنی تیرے رب کی ہی قسم یہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک تجھ سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چاہیں اور پھر فیصلوں اور قضایا کو خوشی سے تسلیم نہ کریں کیا گورنمنٹ اور اس کے مجسٹریٹ خطاء سے محفوظ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس بناء پر گورنمنٹ اور جوں کے فیصلے رد کر دیئے جاتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ غلطی کرتے ہوں کیا خلیفہ المسیح جن کی بیعت آپ نے کی تھی خطاء سے محفوظ تھے ؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا انجمن اپنے فیصلہ میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی؟ پھر انجمن جماعت کی حاکم کیونکر ہو سکتی ہے ؟ اگر صرف مضنون عن الخطاء کے فیصلہ ہی واجب العمل ہوتے ہیں تو پھر دنیا کی سب حکومتیں سب انجمنیں مٹادینی چاہئیں کیونکہ انسان کوئی مصنون عن الخطاء نہیں ۔ نماز ہمارے لئے دلیل ہے امام غلطی کرتا ہے اور خطاء سے پاک نہیں ہوتا مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی