انوارالعلوم (جلد 2) — Page 323
۳۲۳ سے نہیں کیا جاتا۔اس کا جواب آسان ہے۔مسلمان یہود اور مسیحیوں سے کلام کرتے تھے لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو ثلاثة الذین خلفواجن کے واقعہ کی طرف سورۃ توبہ میں اشارہ کیا گیا ہے ان کا مفصل ذکر بخاری میں آتا ہے۔ان تین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام منع کر دیا تھا اور مسلمان ان سے نہ بولتے نہ ملتے نہ تعلق رکھتے حتیّٰ کہ بیویوں کو بھی جدا کر دیا تھا۔کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ کیا وہ تین منافقوں سے بھی بدتر تھے ؟ کیا وہ یہود سے بھی بدتر تھے؟ پھر کیا وہ مشرکوں سے بھی بدتر تھے؟ اور اگر ان سے یہ سلوک کیا گیا تو مسیحیوںاور یہودیوں سے اس سے سخت کون سا سلوک کیا گیا۔مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ اعتراض غلط ہے ان کو سرزنش کی ایک خاص وجہ تھی اور انتظامِ جماعت کے قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔دنیاوی حکومتیں بھی میدانِ جنگ کے سپاہی کو پکڑ کر صلیب پر نہیں لٹکاتیں حالانکہ وہ کئی خون کر چکا ہوتا ہے اور اپنے مُلک کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں کیوں؟ اسی لئے کہ اس سپاہی کا کام تھا کہ وہ ان کا مقابلہ کرتا مگر یہ اپنے تھے اور اپنے کا فرض ایک طرف تو یہ تھا کہ امن کو قائم رکھے جس کے خلاف اس نے کیا۔دوسرے اس سپاہی کا حملہ ظاہر ہے اور اس اپنے کا حملہ اندر ہی اندر تباہ کر سکتا ہے پس جن لوگوں سے یہ خوف ہو کہ ایک حد تک اپنے بن کر مخالفت کریں گے اُن سے بچنا اور بچانا ایک ضروری بات ہے۔دوسرے اپنے غلطی کریں تو وہ زیادہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔آجکل کی مثال لے لیجئے وہ رحیم کریم انسان جو شفقت علی خلق اللہ کا کامل نمونہ تھا اور یقینا اسی کے منہ سے اور اسی کی تحریروں سے ہم نے یہ بات معلوم کی ہے کہ اسلام کی دو ہی غرضیں ہیں ایک تعلق باللہ اور دوسری شفقت علی خلق اللہ۔وہ ہندوؤں سے ملتا تھا، مسیحیوں سے ملتا تھا لیکن مرزا سلطان احمد صاحب سے کبھی نہیں ملتا تھا اور کئی دفعہ جب حضرت خلیفہ اوّل نے کوشش کی کہ آپ کو ان سے ملائیں تو آپ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا اور آخر مولوی صاحب کو منع کر دیا کہ پھر ایسا ذکر نہ کریں۔اب بتائیے اس تعلق میں اور ہندوؤں کے تعلق میں کچھ فرق معلوم ہوتا ہے یا نہیں؟ بیٹے سے تو ملتے نہ تھے اور لالہ شرمپت گھنٹہ گھنٹہ آپ کے پاس آ کر بیٹھ رہا کرتے تھے۔پس آپ ان مثالوں سے سمجھ لیں کہ کبھی ضروریات ایسا مجبور کرتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ غیروں سے ملتے رہیں بعض اپنوں سے ملنا چھوڑ دیا جائے۔آپ نے اپنے حال پر غور نہیں کیا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان بنانے کے لئے آپ نے احمدیوں کو کافر ثابت کیا ہے۔پھر جب آپ خود اس مجبوری کا شکار ہوئے ہیں تو دوسروں پر اعتراض کی کیا وجہ ہے۔پھر اخبار پیغام لاہور محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ کے خلاف کچھ نہیں لکھتا لیکن اس کا سارا زور ہمارے خلاف خرچ ہو رہا ہے کیا یہ مثال