انوارالعلوم (جلد 2) — Page 15
۱۵ درخواست نہ تھی۔میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جُھکا دیں میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو ردّکر دوں۔مجھے اُس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اُسے کیونکر پسند آ گیا لیکن جو کچھ بھی ہو اُس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اِس کُر تہ کو مجھ سے نہیں اُتار سکتا جو اُس نے مجھے پہنایا ہے۔یہ خدا کی دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔خدا تعالیٰ میرا مددگار ہوگا۔میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقتور ہے، میں کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا توانا ہے، میں بِلااسباب ہوں مگر میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے ، میں بے مددگار ہوں مگر میرا ربّ فرشتوں کو میری مدد کیلئے نازل فرمائے گا۔(اِنْشَائَ اللّٰہ) میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔لوگ کہتے ہیں میں جھوٹا ہوں اور یہ کہ میں مدتوں سے بڑائی کا طلبگار تھا اور فخر میں مبتلا تھا، جاہ طلبی مجھے چین نہ لینے دیتی تھی مگر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تمہارا اعتراض تو وہی ہے جو ثمود نے صا لؑح پر کیا یعنی بل ھو کذاب اشر(القمر،۲۶)وہ تو جھوٹا اور متکبر اور بڑائی کا طالب ہے۔اور میں بھی تم کو وہی جواب دیتا ہوں جو حضرت صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیا کہ سیعلمون غدا من الکذاب الاشر(القمر،۲۷) ذرا صبر سے کام لو خدا تعالیٰ کچھ دنوں تک خود بتا دے گا کہ کون جھوٹا اور متکبر ہے اور کون بڑائی کا طلبگار ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے انتخاب کیلئے ایک لمبی میعاد مقرر ہونی چاہیے تھی کہ کل جماعتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر انتخاب ہوتا لیکن اِس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی کہ ایسا کیوں ہوتا۔نہ تو ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کرنے والے ۱۲۰۰ آدمی تھے اور ۲۴ گھنٹہ کا وقفہ ہوا تھا لیکن اب ۲۸ گھنٹہ کے وقفہ کے بعد قریباً دو ہزار آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی۔حالانکہ حالات بھی مخالف تھے اور یہ سوال پیدا کیا گیا تھا کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں اور یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام تھا کہ اس نے اس فتنہ کے وقت جماعت کو بچا لیا اور ایک بڑے حصہ کو ایک شخص کے ہاتھ پر متحد کر دیا۔حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر تو ابتدا میں صرف تین آدمیوں نے بیعت کی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہ ؓ نے مہاجرین میں سے اور قیس بن سعدؓ نے انصار میں سے۔اور بیعت کے وقت بعض لوگ تلواروں کے ذریعہ سے بیعت کو روکنا چاہتے تھے اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اُٹھانا چاہتے تھے