انوارالعلوم (جلد 2) — Page 318
۳۱۸ نہیں بتایا گیا کہ کس کا کیال حال ہوگا۔آپ لوگوں پر اصل ابتلاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آیا۔خلافت بعد میں ہوئی اُس وقت تو نہ تھی۔پھر یہ کون سی ضروری بات تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا جاتا کہ فلاں فلاں شخص انکارِ خلافت کرے گا اور اگر ضروری تھا تو کیا یہ بتایا گیا کہ آپ کی اولاد سب کی سب اور سب قادیان کے مہاجرین اور اکثر حصہ جماعت آپ کی وفات کے بعد کافر ہو جائیں گے ( جیسا کہ آپ نے صفحہ۴۶ پر کافر قرار دیا ہے) اگر یہ امر آپ کے خیال کے مطابق واقعہ ہو گیا لیکن اس کا آپ کو علم نہ دیا گیا تو آپ کون سی ایسی خصوصیت رکھتے ہیں کہ آپ کے متعلق ضرور کوئی الہام ہونا چاہیے تھا۔آپ کے سب بیٹے بقول آپ کے کافرہو جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں، سب مہاجرین بگڑ جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ کے عقائد میں کچھ فرق آتا تھا تو اس کی اطلاع مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور ہو جانی چاہیے تھی۔اور اگر نہیں ہوئی تو ثابت ہوا کہ آپ حق پر ہیں۔خواجہ صاحب! ان دلائل سے کام نہیں چل سکتا کسی بات کے ثابت کرنے کیلئے کوئی مضبوط دلیل چاہیے۔طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حُجت نہ پکڑیں۔ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا سوال تھا۔پھر میں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہا ہے کہ اُنہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔حضرت عائشہؓ تو اپنی غلطی کا اقرار کرکے مدینہ جا بیٹھیں اور طلحہؓ اور زبیرؓ نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کر لی۔چنانچہ چند حوالہ جات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔(الف) وَاَخْرَجَ الْحَاکِمُ عَنْ ثَوْرِبْنِ مَجْزَاۃَ قَالَ مَرَرْتُ بِطَلْحَۃَ یَوْمَ الْجَمَلِ فِیْ اٰخِرِ رَمَقٍ۔فَقَالَ لِیْ مِمَّنْ اَنْتَ؟ قُلْتُ مِنْ اَصْحٰبِ اَمِیْرالْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ۔فَقَالَ اُبْسُطْ یَدَکَ اُبَایِعُکَ۔فَبَسَطْتُ یَدِیْ وَبَایَعَنِیْ وَفَاضَتْ نَفْسُہٗ۔فَاَتَیْتُ عَلِیًّا فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبَی اللّٰہُ اَنْ یَّدْخُلَ طَلْحَۃُ الْجَنَّۃَ اِلاَّ وَبَیْعَتِیْ فِیْ عُنُقِہٖ (خصائص کبریٰجلد ثانی صفحہ ۱۱۵) ترجمہ: اور حاکم نے روایت کی ہے کہ ثوربن مجزاۃ نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہؓ کے پاس سے گذرا۔اُس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرت امیرالمؤمنین علیؓ کی جماعت میں سے ہوں۔تو کہنے لگے اچھا! اپنا ہاتھ بڑھاؤ تا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں چنانچہ اُنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔میں نے آکر حضرت علیؓ سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔آپ سن کر