انوارالعلوم (جلد 2) — Page 317
انوار العلوم جلد ۲ ۳۱۷ القول الفصل اپنا بڑارتبہ رکھتا تھا کہ وہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھا مرتد اور منافق کہا ہے اور اس کا ثبوت صحیح احادیث اور مستند روایات سے مل سکتا ہے ۔ (مسند احمد بن جنبل جلد اول صفحہ ۵۷) پس چند آدمیوں کا ٹھوکر کھا جاتا جبکہ کثرت حق پر قائم ہو۔ سلسلہ کی تباہی کی علامت نہیں اور پھر اس حالت میں جبکہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالٰی نے رویا میں بتایا بھی ہے۔ کہ جماعت کا ایک سنجیدہ آدمی مرتدوں میں مل گیا ہے۔ ۱۸۔ ستمبرے ۱۹۰ء - رؤیا ۔ فرمایا : چند روز ہوئے میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ مرتدین میں داخل ہو گیا ہے۔ میں اس کے پاس گیارہ ایک سنجیدہ آدمی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ اس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے " ( بدر جلد ۶ نمبر ۳۸ صفحه ۵ بابت ۱۹۰۷ م ) اور یہ رویا عبدالحکیم کے ارتداد کے بعد کی ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا قدم غیر احمدیوں کے زیادہ قریب ہے یہ نسبت ہمارے ۔ کیونکہ ہم پر تو آپ الزام دیتے ہیں کہ ہم ان مسلمانوں سے دور ہی دور جا رہے ہیں۔ اور خود جبکہ حضرت کا کشف مولوی محمد علی صاحب کی نسبت موجود ہے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ یہ " تھے " ظاہر کرتا ہے کہ کبھی ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہمیں نہایت افسوس سے ” ہیں " کی بجائے ” تھے " کہنا پڑے گا۔ اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب کی نسبت دعا کرنا اور الہام ہونا کہ شر الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ جن پر تو نے انعام کیا ان کی شرارت اور یہ بات تو آپ بھی بار بار پیش کرتے ہیں کہ ہم پر حضرت بہت مہربان تھے ۔ اور شیخ صاحب کی نسبت دعا کرنے پر اس الہام کا ہونا مطلب کو اور بھی واضح کر دیتا ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ کیا ہماری خدمات کا یہی بدلہ ملنا چاہئے تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدمات کا یہ بدلہ نہیں ملتا۔ خدمات تو سارے احمدیوں نے کی ہیں۔ اور بہتوں نے آپ سے بڑھ کر کی ہیں۔ جن کے پاس مسیح موعود کی لکھی ہوئی سندات موجود ہیں۔ پس یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدمات کا ایسا الٹا بدلہ کیوں ملا کیونکہ بہتوں نے خدمات کیں اور انعام پائے ۔ اگر آپ کو ٹھوکر لگی تو اس کے کوئی پوشیدہ اسباب ہوں گے جن سے خدا تعالی واقف ہے اور ممکن ہے کہ آپ بھی واقف ہوں ہمیں اس بات کے معلوم کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعود کو کیوں ایسے لوگوں سے آگاہ نہ کیا گیا۔ اس کے دو جواب ہیں۔ اول یہ کہ مجملاً آگاہ کیا گیا جیسا کہ پہلے میں الہام لکھ آیا ہوں دوسرے یہ کہ یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کی وفات کے بعد کی کل کاروائیوں سے واقف کیا جاتا آنحف ہا جاتا آنحضرت ﷺ کے صحابہ صحابہ" پر آپ کی وفات کے بعد سخت مصائب آئے مگر آپ کو