انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 293

انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۳ القول الفصل صاحب اسکی صحت ثابت کر دیں۔ مسیح موعود اپنی عظمت اور شان میں ایسا بلند ہے کہ اس کی عظمت ثابت کرنے کے لئے کسی صحابی کی نسبت ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ آنحضرت ﷺ کی شان کا مقابلہ صحابہؓ سے کرتے وقت بھی کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال کرے کیونکہ گو آنحضرت ا اپنی شان میں نبیوں سے بھی بڑے ہیں لیکن کیا ضروری ہے کہ آپ کی عظمت کے اظہار کے لئے ہم صحابہ کی نسبت سخت الفاظ استعمال کریں ہمیں ہر بزرگ کی عزت کرنی چاہیئے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا باقی رہا درجوں کا تفاوت اس کی نسبت میں اپنا ہے اعتقاد پہلے لکھ چکا ہوں اور وہ اعتقاد مسیح موعود کے منہ سے سنے ہوئے الفاظ کی بناء پر ہے۔ دوسرا مسئلہ کفر ہے جس پر خواجہ صاحب نے بحث کی ہے اس مسئلہ پر میں خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریریں شائع کر چکا ہوں ، مزید تشریح کی ضرورت نہیں میرا وہی عقیدہ ہے اور جبکہ میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی۔ صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے پہلے انبیاء نے بلا واسطه نبوت نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ ۔ پس جو حکم نبی کے انکار کے متعلق قرآن کریم میں۔ وہی مرزا صاحب کے منکر کی نسبت ہے۔ قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ حکم فلاں فلاں قسم کے غیوں کی نسبت ہے ہاں میں اس فرق کو ضرور تسلیم کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں لکھا ہے اور حقیقۃ الوحی میں اس کی مزید تشریح فرمائی ہے اور وہ یہ کہ صاحب شریعت نبی چونکہ شریعت کے لانے والے ہوتے ہیں اس لئے ان کا انکار بلا واسطہ انسان کو کافر بنا دیتا تھا۔ لیکن ہمارے حضرت مسیح موعود کو چونکہ جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے اس لئے آپ کا انکار بھی اسی واسطہ سے کفر ہوتا ہے یعنی آپ کا انکار آنحضرت کا انکار ہے پس جس قدر فرق نبوت کے حصول کا ہے وہی فرق مخالفین کے انکار پر سزا کا ہے جو نبی کسی دوسرے نبی کے متبع نہیں ان کے مخالفین پر بھی کفر کا فتوئی بلا واسطہ عائد ہوتا ہے لیکن مسیح موعود" چونکہ آنحضرت ا کے دربار کا ایک عہدہ دار ہے اس لئے اس کے کفر کا فتوئی دربار خاتم النبه خاتم النبین سے جاری ہوتا ہے اور اسی واسطہ واسطہ سے مخالفوں کو پہنچتا ہے اس کی طرف حضرت (صاحب) نے حقیقۃ الوحی میں اشارہ فرمایا ہے کہ جو میرا انکار کرتا ہے وہ در حقیقت میرے سردار آنحضرت ا کا انکار کرتا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا