انوارالعلوم (جلد 2) — Page 291
انوار العلوم جلد ۲ ۲۹۱ القول الفصل کوئی بات تھی۔ لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ انکا بَشَارَةٌ عِیسٰی میں عیسی کی بشارت ہوں۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح نے دو خبریں دی تھیں۔ ایک اپنی دوبارہ بعثت کی۔ اور ایک اور ایک عظیم الشان نبی کی۔ جسے ” وہ نبی" کر کے پکارا ہے اور ہمارے آنحضرت ا " وہ نبی" تھے۔ اور مسیح موعود کی آمد حضرت مسیح کی دوبارہ بعثت تھی۔ اور جو کام دوبارہ ہوا سے عربی کے محاورہ میں احمد کہتے ہیں جیسے کہ کہتے ہیں کہ الْعَوْدُ احمد پس انَا بَشَارَةُ عِیسٰی سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ انجیل میں صاف الفاظ میں دو الگ الگ پیشگوئیاں موجود ہیں۔ ایک آپ کی نسبت اور ایک مسیح موعود کی نسبت حضرت خلیفة المسیح الاول کا بینی عقیدہ تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود ہی احمد ہیں۔ اور ہم نے بارہا ان سے سنا۔ نے بارہا ان سے سنا ہے۔ بلکہ سینکڑوں نے سنا۔ ں نے سنا ہے۔ چنانچہ اخبار بد ر میں آپ کا یہ مذہب بھی شائع ہو چکا ہے ۔ وهو هذا - ۱۰ دسمبر ۱۹۱۲ء - آج بعد ظهر مسجد اقصیٰ میں سورۃ صف کے پڑھنے سے قبل کسی نے کہا کہ اس سورۃ کو کھول کر بیان کرو۔ حالانکہ حضرت صاحب تمام ضروری باتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ اور عام تراجم سے جہاں اختلاف ہو۔ وہ بھی خصوصیت سے بتلا دیتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ نادان هم لوگ بے فائدہ سوالات سے باز نہیں آتے۔ اس سورۃ کی تفسیر میں آپ نے ثابت کیا۔ کہ جس احمد کی بشارت اس سورۃ شریف میں ہے وہ مثیل مسیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔ اور حضرت مسیح نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی ہے۔ فرمایا میں اپنی ذوقی باتیں کم بیان کیا کرتا ہوں۔ سائل تو صرف احمد کے متعلق کھول کر بیان چاہتا ہے یہاں تو خدا نے احمد کے بعد نور کی طرف بھی قرآن شریف میں اشارہ کر دیا ہے۔ آگے دین کا لفظ بھی ہے اور اس نور کو نہ ماننے کے متعلق بھی کہا ہے ۔ وَلَوْ كَرِهُ الْكِفُرُونَ (کلام امیر ضمیمہ بد دیابت ۱۹ دسمبر ۱۹۱۲ ) اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی ایک تحریر اس آیت کے متعلق ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری نے بھی شائع کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ " میں مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسمة احمد (الصف:۷) کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی متعلق ہے۔ اور وہی احمد رسول ہیں "۔ پس آنحضرت ا احمد تھے۔ اور سب سے بڑے احمد تھے ۔ کیونکہ آپ سے بڑا کوئی مظہر صفت احمدیت کا نہیں ہوا۔ لیکن آپ کا نام احمد نہ تھا۔ اور اسمه احمد کا مصداق مسیح موعود ہے۔