انوارالعلوم (جلد 2) — Page 12
نوار العلوم جلد ۲ ۱۲ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے A مامورین کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمُ امُنَا يَعْبُدُو دُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ (النور : (۵) ( النور : (۵۶) اللہ تعالی تم میں سے مؤمنوں اور نیک اعمال والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو مقرر کیا اور ان خلفاء کے اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کرے گا اور ان کے خونوں کو امن سے بدل دے گاوہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرا کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے اور جو شخص اس حکم کے ہوتے ہوئے بھی ان کا انکار کرے گا تو وہ خدا تعالی سے دور کیا جائے گا۔ " اب اس آیت کے ماتحت جس قسم کی خلافت آنحضرت ا کے بعد ہوئی وہی خلافت راشدہ ہے اور اسی قسم کی خلافت مسیح موعود کے بعد ہونی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مسیح موعو موعود کی نسبت فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِلٍ مُّبِينٍ ۔ وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعہ: ۳-۴) خدا ہی ہے جس ۔ جس نے امیوں میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے اور جو ان پر خدا کا کلام پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے وہ کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور وہ رسول ایک اور قوم کو بھی سکھائے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملی اور خدا اہلی اور خدا تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے مسیح موعود کے زمانہ کو آنحضرت ا کے زمانہ سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دفعہ تو آنحضرت ا نے صحابہ کی تربیت کی ہے اور ایک دفعہ وہ پھر ایک اور قوم کی تربیت کریں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی پس مسیح موعود کی جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مشابہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ دونوں میں ایک ہی قسم کی سنت جاری ہو گی پس جس طرح آنحضرت ا کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا ضرور تھا کہ مسیح موعود کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا چنانچه خود حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ جس طرح آنحضرت ا کے بعد ابو بکر کے ذریعہ دوسری قدرت کا اظہار ہوا ضرور ہے کہ تم میں بھی ایسا ہی ہو اور اس عبارت کے پڑھنے۔ ھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بعد سلسلہ خلافت کے کے منتظر تھے مگر جس