انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 287

۲۸۷ اب میں آخر میں حضرت مسیح موعود ؑکی ایک ڈائری کا مضمون ذیل میں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے ان لوگوں کو کس طرح ڈانٹا ہے جو دوسروں سے ڈر کر آپ کی نبوت سے انکار کرتے ہیں۔اور اسی کی غلط تاویلات کرنی شروع کردیتے ہیں: ’’ایسارسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنانہیں چاہئے۔اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔صحابہ کرام ؓکے طرز عمل پر نظر کرو- وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھاوہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے۔جب ہی وہ لا يخائون لومة لائم کے مصداق ہوئے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالی ٰجس کے ساتھ ایسا مکالمه مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دو سروں سے بہت بڑھ کر ہو۔اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے۔اور نئی کتاب لاۓ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔پس وہ نبی کہلائے۔یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔بھلا اگر ہم نبی کہلائیں تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دو سرے ملہموں سے ممتاز کرے۔‘‘ "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو- وہ مرد ہ ہے ، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔اگر اسلام کا بھی یہی حال ہو تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالی ٰکے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔اسی لئے ہم نبی ہیں۔امرحق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے "۔(بدر نمبر۹ جلد ۷-۵مارچ ۱۹۰۸ء) اس حوالہ کے بعد میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کونبی کہہ کر|پکارا بھی ہے۔چنانچہ پگٹ کے مقابلہ میں جو اشتہار رہا تھا۔اس کے آخر میں جہاں مشتہرکا نام لکھا جاتا ہے یہ الفاظ تھے:-\"The Prophet Mirza Ghulam Ahmad\" یعنی النبی مرزا غلام احمد