انوارالعلوم (جلد 2) — Page 271
انوار العلوم جلد ۲ (شهادت القرآن ص - ۲۷۱ القول الفصل روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۹) لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں کمالات سے حصہ پانا اور شئے ہے اور نبی کہلانا ایک اور شئے ہے۔ جب کسی چیز کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو اس کے لئے ایک حد مقرر ہوتی ہے جب تک انسان اس حد تک نہ پہنچ جائے وہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتا جیسا کہ ایک شخص مثلا ایم اے کی سب کتابوں میں سے تھوڑا تھوڑا پڑھ لے اور امتحان میں شریک ہو کر ہر پرچہ میں سے کچھ کچھ نمبر بھی حاصل کرلے تو وہ ایم اے اس دلیل کی بناء پر نہیں کہلا سکتا کہ اس نے ہر پرچہ میں سے کچھ کچھ نمبر حاصل کر لئے ہیں اس طرح نبوت کے کمالات اور برکات و انعامات ہیں جب انسان ولایت کے اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جس کے آگے نبوت کا درجہ شروع ہوتا ہے تو ایسا شخص بوجہ مقام نبوت کے قرب کے نبوت کے تمام کمالات اور برکات اور انعامات میں سے حصہ پاتا ہے۔ لیکن وہ حصہ اس قدر نہیں ہوتا کہ اس کو نبی کہہ سکیں اور یہی درجہ صدیقوں کا درجہ کہلاتا ہے جیسا کہ پہلے مجددین نے اس امر پر بحث کی ہے۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ صدیق وہی ہوتا ہے جو نبوت کے کمالات حاصل کر لیتا ہے لیکن اس قدر حصہ نہیں پاتا کہ اسے نبی کہا جا سکے۔ پس حضرت مسیح موعود کے اس حوالہ سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے اشخاص جو صد ! صدیقیت کے رتبہ پر پہنچ جائیں۔ اسلام میں بہت سے گذرے ہیں لیکن نبی کہلانے والا صرف مسیح موعود ہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۴۰ میں فرماتے ہیں:۔ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکتے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمه و مخاطبہ اللہ اور امور فیسہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے ۔ تو اس صورت میں آنحضرت ا کی پیشگوئی میں ایک رشتہ واقع ہو جاتا۔ اس لئے خدا تعالی کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے“۔ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷) پس ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے خلفاء بھی کمالات نبوت سے حصہ پانے والے تھے۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں وہ نبی نہیں کہلا سکتے تھے۔ "اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا۔ اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا۔ کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔ اس لئے حکمت الہیہ نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور