انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 271

۲۷۱ شہادت القرآن صفحہ ۴۳روحانی خزائن جلد ا۲ صفحہ ۳۳۹) لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں کمالات سے حصہ پانااور ہے اور نبی کہلانا ایک اور شئے ہے۔جب کسی چیز کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو اس کے لئے ایک حد مقرر ہوتی ہے جب تک انسان اس حد تک نہ پہنچ جائے وہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتا جیسا کہ ایک شخص مثلاً ایم اے کی سب کتابوں میں سے تھوڑا تھوڑا پڑھ لے اور امتحان میں شریک ہو کر ہر پر چہ میں سے کچھ کچھ نمبر بھی حاصل کرے تو وہ ایم اے اس دلیل کی بناء پر نہیں کہلا سکتا کہ اس نے ہر پر چہ میں سے کچھ کچھ نمبر حاصل کر لئے ہیں اسی طرح نبوت کے کمالات اور برکات و انعامات ہیں جب انسان ولایت کے اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جس کے آگے نبوت کا درجہ شروع ہوتا ہے تو ایسا شخص بوجہ مقام نبوت کے قرب کے نبوت کے تمام کمالات اور برکات اور انعامات میں سے حصہ پاتا ہے۔لیکن وہ حصہ اس قدر نہیں ہوتا کہ اس کونبی کہہ سکیں اور یہی درجہ صدیقوں کا درجہ کہلاتا ہے جیسا کہ پہلے مجد دین نے اس امر پر بحث کی ہے۔اور شاہ ولی اللہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ مصدیق وہی ہوتا ہے جو نبوت کےکمالات حاصل کرلیتا ہے لیکن اس قدر حصہ نہیں کہ اسے نبی کہا جا سکے۔پس حضرت مسیح موعودؑکے اس حوالہ سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے اشخاص جو صدیقیت کے رتبہ پرپہنچ جائیں۔اسلام میں بہت سے گذرے ہیں لیکن نبی کہلانے والا صرف مسیح موعودؑہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۴۰۷ میں فرماتے ہیں:۔\"اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمه و مخاطبہ الہٰیہ اور امورغیبیہ سے حصہ پالیتے تووه نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے۔تو اس صورت میں آنحضرت ﷺکی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔اس لئے خدا تعالی ٰکی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کوپورے طور پر پانے سے روک دیا۔جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا ایک ہی ہو گا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے ‘‘-( روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷) پس ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے خلفاء بھی کمالات نبوت سے حصہ پانے والے تھے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں و ہ نبی نہیں کہلا سکتے تھے۔"اگر تمام خلفاء کونبی کے نام سے پکارا جاتاتوامر ختم ِنبوت مشتبہ ہو جا تا۔اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا۔کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔اس لئے حکمت الہٰیہ نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور