انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 270

۲۷۰ اس مصرعہ سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے رسالت کا انکار کس لحاظ سے کیا ہے اسی مفہوم کے لحاظ سے جو لوگوں میں غلط طور پر رسول کی نسبت پایا جاتا ہے جیسا کہ اس مصرعہ کی تشریح میں آپ خود فرماتے ہیں:۔’’ میرا یہ قول ؎’’من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب۔‘‘ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۷، روحانی خزائن جلد ۸اصفحہ ۲۱۱) پس اس انکار سے فائدہ اٹھا کر یہ اعلان کرنا کہ حضرت مسیح موعودؑ مجدّدوں میں سے ایک مجدّدہیں اور ماموروں میں سے ایک مامور ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں جیسے کہ اور بزرگ نبی کہلا سکتے ہیں سخت ظلم اور تعدی ہے جس کا نشانہ اور بھی کوئی نہیں وہ خدا کا مسیح ہے جس کے ہم پر اس قدراحسانات اور انعامات ہیں کہ ہم ان کا شکریہ ادا کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔حضرت مسیح موعودؑ توصاف لکھتے ہیں کہ اس امت میں میرے سوا اور کوئی شخص نبی کہلانے کا مستحق نہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیراس نعت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ‘‘(حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶،۴۰۷) اور آپ لکھتے ہیں کہ ایسی نبوت میں حضرت مسیح موعودؑ کے شریک سید عبدالقادر جیلانی ،جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہما اور دیگر بزرگ بھی ہیں ہم یہ مانتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑنے لکھا ہے پچھلے مجدّ دین اور مامور ینِ کمالاتِ نبوت محمدیہ سے حصہ پاسکتے تھے لیکن دہ نبی نہیں کہلا سکتے کیونکہ کمالات سے حصہ پانا ایک اور شئے ہے اور وہ درجہ حاصل کرنا ایک اور شئے ہے خواب بھی نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ایک شخص کو اگر سچی خوابیں یا الہام ہوتے ہوں تو اس کی نسبت ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسے کمالات نبوت سے حصہ ملا ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نبی ہو گیا۔کیونکہ نبی وہی ہو گا جو ان کمالات میں سے اس قدر حصہ پائے جس پر اس کا نام نبی رکھا جا سکے سو ہم مسیح موعود ؑکے ہم زبان ہو کر اقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ایسے بہت سے مجددین کا وعدہ تھا جو کمالات نبوت سے حصہ پائیں گے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔’’اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کریم ﷺکے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہو تارہا"