انوارالعلوم (جلد 2) — Page 267
۲۶۷ کرتا ہے اور جب اس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک عملی ثبوت اس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے لیکن ساتھ ہی حضرت مسیح موعود نے اپنے اس تمام کلام کی تشریح خودہ ی کردی ہے اور متکلم سے زیادہ کس شخص کاحق ہو سکتاہے کہ وہ اس کے کلام کی تشریح کرے جب خود حضرت مسیح موعوداپنے کلام کی ایک تشریح فرماتے ہیں تو اب کسی دوسرے کو اس پر قلم اٹھانے کی اجازت نہیں۔تصنیف را مصنف نیکوکند بیان۔آپ نے جو معنے اپنے کلام کے کئے ہیں وہی درست اور راست ہیں اور جو معنے آپ کے کلام کے خلاف ہوں ان کو آپ کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے وہ غلط اورنادرست ہے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ مجھے اللہ تعالی ٰنے مسیح موعود کےتحریر کردہ مضمون کے علاوہ کچھ اور معارف بھی سمجھائے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ حضرت مسیح موعودؑاپنے ایک کام کی خودہی تفسیر فرما دیں اور کوئی شخص آپ کے اسی کلام سے آپ کی تفسیرو تشریح کے خلاف ایک اور ہی معنے لے کر اس تحریر کو اپنے کسی مطلب کے لئے سند کے طور پر پیش کرے۔کوئی عقلمند انسان اس منشائے مصنف کے خلاف تفسیرو تشر یح کو قبول نہیں کر سکتا اور اسی لئے ہم بھی اس نتیجہ سے خواجہ صاحب سے متفق نہیں ہو سکتے جو انہوں نےحضرت مسیح موعودؑ کی بعض تحریروں سے نکالا ہے کیونکہ دوسرے مقامات پر خود حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی ان تحریرات کی ایک تشریح فرما دی ہے اور وہ قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے اور لکھ دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی میں نے اپنی نبوت سے انکار کیا ہے وہاں میری مراد ایسی نبوت سے تھی جس کا ،مدعی شریعت لائے یا آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر نبوت کا درجہ حاصل کرے ورنہ غیر تشریعی اور ایسے نبی ہونے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا جو آنحضرت اﷺکی کامل اتباع سے نبی بن جائے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سےکہ میں نے اپنے رسول ؐمقتداسے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کےواسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جد ید شریعت کے۔اس طور کانبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ ان معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر