انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 260

۲۶۰ کو صرف و نحو کی کیا پرواہ ہے وہ کسی کے بنائے ہوئے قاعدوں کا پابند نہیں ہے۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اﷲ کو پرواہ نہیں ہے۔لیکن ہم انسانوں کو تو ہے۔اگر اﷲ تعالیٰ کی کلام ایسی نہیں ہے جو ہم سمجھ سکیں تو اسکا فائدہ کیا۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ کے یہ معنے کہ اﷲ منوا کر چھوڑ دو۔منکر ان خلافت کے امیر مولوی محمد علی صاحب نے صرف و نحو کی لا علمی سے ہی کئے ہیں اﷲ پر پیش ہے۔لیکن زبر سمجھ لی گئی اور یہ معنی کر دیئے گئے۔(۵) حضرت مسیح موعودؑ جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم اور عدل ہو کر آئے تھے ان کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔(۶) جن معنوں کی کوئی آیت تصدیق نہ کرتی ہو اور وہ عقل کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو ہاں اگر نص صریح بتا دے تو پھر اس میں عقل کو مت دخل دو۔البتہ جو استدلال کیا جائے ا س میں عقل کا دخل ہونا چاہئے۔(۷) کوئی معنے ایسے نہ کرو جو خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں فرق ڈالنے والے ہوں۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس پر مفصل تقریر کرتا کہ کس طرح قرآن شریف کے صحیح معنے کئے جا سکتے ہیں۔لیکن نہ وقت ہے اور نہ ہی بوجہ حلق کی تکلیف کے طاقت ہے اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر سہی۔پھر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُو االلّٰہَ ذِکْراً کَثِیْراً۔وَّسَبِّحُوْ ہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلاً۔ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہ، لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ کَانَ بِالْمُؤْ مِنِیْنَ رَحِیْماً۔(الاحزاب :۴۲،۴۴)یعنی اے مو منو اﷲ کو بڑا یاد کرو۔اور صبح اور شام اس کی تسبیح کرو۔وہی اﷲ ہے جو تم پر رحمت کرتا ہے اور اسکے ملائکہ بھی تمہارے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ تم کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے اور اﷲ مؤمنوں کے لئے بڑا رحیم ہے۔رسول کریم ﷺ نے اس کے ماتحت کئی دعائیں مقرر فرمائی ہیں۔’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔‘‘اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ ……رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَاً وَلَا مَنْجٰی مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔(بخاری کتاب الدعوت باب النوم علیٰ الشق الایمن ) اس دعا کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر مؤمن رات کو پڑھ کر سو رہے اور اس کے بعد کوئی کلام نہ کرے۔تمہیں ترقی کرنے کے لئے ان کو ضرورپڑھنا چاہئے۔اب میں اس کے معنی بیان کرتا ہوں انسان کہتا ہے کہ الٰہی میں اپنا سب کچھ آپ کے سپرد کرتا ہوں اپنی جان بھی آپ کے ہی حوالہ کرتا ہوں اب میں سونے لگا ہوں معلوم نہیں زندہ اٹھوں گا یا نہیں اس لئے اپنے سارے کام آپ کے حوالہ کئے دیتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ ہی سے مجھے انعام ملے گا اور اگر میں اس کے خلاف کروں گا تو سزا ملے گی اور میرے لئے