انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 248

انوار العلوم جلد ۲ ۲۴۸ برکات خلافت اور سبحان الله - سبحان اللہ کہتے رہتے ہیں لیکن انہیں کوئی پتہ نہیں ہو تا کہ یہ کلمات ہم کیوں کہہ رہے ہیں۔ لیکن ہیں الْحَمْدُ لِلهِ اگر کوئی نیت اور ارادہ کے ماتحت کیے تو ایک دن میں فرشتہ بن جاتا ہے۔ اور یہی سبحان اللہ اگر نیت اور ارادہ سے کہی جائے تو ایک دن میں انسان خدا رسیدہ ہو جاتا ہے۔ رسول کریم ال فرماتے ہیں كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ رو کے ایسے ہیں جو زبان پر تو بڑے ہلکے معلوم ہوتے ہیں ایک منٹ میں انسان کہہ جاتا ہے۔ لیکن ثَقِيلَتَانِ فِي ۔ الميزان جب خدا تعالی انہیں ترازو میں رکھنے گا تو بڑے بو جھل ہوں گے یعنی اعمال کا پلڑا ان کے بوجھ سے نیچے جھک جائے گا ۔ حَبيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ دو کلمے اللہ کو بہت ہی محبوب ہیں۔ اللہ ان کو سن کر بہت خوش ہوتا ہے ! تا ہے اور وہ یہ ہیں۔ سُبْحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اب کی آدمی ان کو پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کے اعمال کی میزان کھڑی کی کھڑی ہی رہتی ہے۔ رسول اللہ تو فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ پڑھنے سے میزان ثقیل ہو جاتی ہے مگر یہاں ہزاروں دفعہ پڑھنے سے بھی اونچی ہی رہتی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ نیت نہیں ہوتی ۔ زبان سے تو کہتے ہیں کہ خدا پاک ہے ۔ لیکن ان کے دل میں اس کا خیال تک بھی نہیں آتا۔ وہ اس کی نعمتیں یاد کر کے شکر نہیں کرتے بلکہ صرف الفاظ رہتے ہیں۔ تو کسی بات کی عادت بہت خراب کرتی ہے اور کچھ کا کچھ بنا دیتی ہے ۔ خواہ وہ کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو ۔ اچھی عادت تو الگ رہی جب کسی خطر ناک بات کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کا بھی ضرر مٹ جاتا ہے۔ بعض لوگ جن کو عادت ہوتی ہے تولہ تولہ سنکھیا کھا لیتے ہیں لیکن دوسرا کوئی تھوڑا سا بھی کھائے تو اس کی جان نکل جائے اس عادت نیکی اور بدی میں تمیز نہیں رہنے دیتی۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہیں كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُ هُم بَدَّلْنَهُمْ جُلُودًا غَيْرَ مَا قرآن شریف میں اللہ لِيَذُوقُوا قُوا الْعَذَابَ (النساء: اب (النساء: ۵۷) - که دوزخ میں رہنے والوں کی جب والوں کی جب کھلڑیاں پک جا اپک جائیں گی تو ہم اور بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب محسوس کریں۔ اس سے خدا خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جس بات کی عادت ہو جاتی ہے پھر اس کا احساس نہیں رہتا اور نہ وہ پہلے کی طرح مفید رہتی ہے۔ سردرد ایک بہت بڑی تکلیف ہے لیکن جب کسی کو عادت ہو جائے تو وہ بہت کم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ کسی شخص نے عادت سے احساسات کے کم ہو جانے کو ایک لطیف حکایت میں بیان ایک قصہ کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے خدا تعالی نے لوگوں کو کہا کہ تم جو کتے ہو کہا جو کہتے ہو کہ ہماری یہ تکلیف بہت زیادہ ہے اور دوسروں کی کم ہے۔ آؤ تمہیں اجازت دی جاتی ہے کہ جو مصیبت تمہیں زیادہ تکلیف وہ معلوم ہوتی ہے اس کا دوسری سے تبادلہ کر لو۔ اس پر انہوں نے اپنے اپنے عیب پھینک ۔