انوارالعلوم (جلد 2) — Page 244
انوار العلوم جلد ۲ ۲۴۴ برکات خلافت وہی پیدا کرنے والا اور سب کی رہی پرورش کرنے والا ہے۔ پس جب ساری چیزوں کی وہی ربوبیت کرتا ہے تو کیوں اس کے لئے سب تعریفیں نہ ہوں۔ ماں باپ بچہ کی ربوبیت کرتے ہیں مگر جانتے ہو ان کے دل میں بچہ کی محبت کس نے ڈالی خدا نے ہی ڈالی ہے۔ اگر سائل کو کوئی ایک پیسہ دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس نے اچھا کام کیا ہے مگر اس کام کے کرنے کی تحریک اللہ تعالی نے ہی اس کے دل میں ڈالی ہے۔ اسی طرح جو نیک کام کوئی شخص کرتا ہے وہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے اس لئے اصل محمد کے لائق خدا تعالی ہی ہے۔ مثلاً ایک آقا اپنے ملازم کو کہے کہ یہ روپیہ فقیروں میں تقسیم کر دو تو گو تقسیم تو وہ خادم ہی کرے گا لیکن تعریف آقاہی کے لئے ہے۔ پس انسان جو کسی سے نیک سلوک کرتا ہے تو وہ آقا کے مال کو تقسیم کرنے کی طرح ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے کرتا ہے کیونکہ کوئی چیز اس کی نہیں بلکہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی ہے۔ تو جتنا کسی میں احسان ، مروت حسن اور خوبصورتی ہے وہ اللہ ہی کی ہے کیونکہ تمام دنیا اس کی خادم ہے اور اس کے سوا اور کوئی آتا نہیں ہے۔ لوگوں کو دین میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ماں باپ ، بیوی ، بچوں ، مال و دولت خویش ، اقرباء کی وجہ سے۔ مگر یاد رکھو کہ اللہ اللہ ہی ہے اور بندے بندے ہی ہیں۔ تم ہر بات میں یہ تحقیق کر لیا کرو کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور جب خدا تعالی کی مرضی معلوم ہو جائے تو پھر خواہ کوئی چیز قربان کرنی پڑے تمہارے مد نظر خدا ہی کی رضا ہو ۔ اس سے بڑھ کر میں ایک اور بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہئے اللہ شرک سے بچو تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اللہ ایک ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی احمدی مشرک نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے ان کو موحد بننے کی توفیق دی ہے اس لئے مجھے یہ تو ڈر نہیں کہ کوئی احمدی بتوں کے آگے سجدہ کرے گا یا خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کا دامن پکڑنے کی کوشش کرے گا۔ باقی دنیا نے تو دین کو چھوڑ دیا ہے مگر تم وہ جماعت ہو جس نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ پھر خدا تعالٰی نے اس جماعت سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں اسے۔ بڑھاؤں گا اور یہ ایک برگزیدہ جماعت ہے اس لئے اس جماعت کے متعلق صریح شرک کا احتمال نہیں کیا جا سکتا۔ مگر میں تمہیں اس بات سے آگاہ کرتا ہوں کہ بہت سادین ایسا ہوتا ہے کہ وہ دنیا ہو جاتا ہے اور ایسا دین اللہ تعالی کے ایک انچ بھی قریب نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں اس دین کی طرف بلاتا ہوں جس کی طرف بڑھنے سے ہر قدم خدا کی طرف بڑھتا ہے اور آج جو تم نمازیں پڑھتے اور دعائیں کرتے ہو اس طرف آنے سے ہزاروں درجہ زیادہ تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔ اور تم