انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 242

انوار العلوم جلد ۲ ۲۴۲ برکات خلافت يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ پھر ایک اور بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے۔ مانا کہ شفاعت بلا اجازت نہیں ہو سکتی لیکن بادشاہ کے جس طرح درباری ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے بادشاہ تک رسائی حاصل کر کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اسی طرح اللہ کے بھی درباری ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ ان احمقوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ دنیا کے بادشاہ کیوں درباری رکھتے ہیں وہ تو اس لئے رکھتے ہیں کہ انہیں ان سے حالات معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بادشاہ نہیں جانتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ مثلاً ہمارے بادشاہ کو انگلستان میں بیٹھے ہوئے خود بخود کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اس لئے حالات معلوم کرنے کے لئے وائسرے مقرر کیا گیا ہے۔ پھر وائسرائے کو خود بخود کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ سارے ہندوستان کے شمال و جنوب مشرق و مغرب میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس لئے لیفٹنٹ گورنر مقرر کئے گئے۔ پھر لیفٹنٹ گورنروں کو سارے صوبہ کا کیا حال معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لئے ڈپٹی کمشنر مقرر کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنروں کو حالات معلوم کرانے کے لئے تحصیلدار نائب تحصیلدار نمبردار ، پٹواری اور چوکیدار رکھے گئے ہیں۔ اور اس طرح تمام سلطنت کی خبریں اور را ز بادشاہ تک پہنچتے ہیں ورنہ انہیں خود بخود معلوم نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالی تو فرماتا ہے کہ اللہ تو تمہاری اگلی پچھلی ساری باتیں جانتا ہے پھر اس کو درباری رکھنے کی کیا ضرورت ہے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ کے دو معنی ہیں (1) اللہ تعالی جانتا ہے اس کو جو آگے ہوتا ہے اور جو کچھ تم پیچھے کر چکے ہو۔ (۲) اللہ جانتا ہے ان کو جو کام تم نے کئے ہیں اور جو نیک کام کرنے چاہئیں تھے لیکن انہیں ترک کر دیا ہے۔ پھر اس کو کیا ضرورت ہے کہ درباری رکھے۔ اللہ جانتا کے کو سکتا وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ ءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ اور اس کے علم کو کوئی کہاں پہنچ سکتا ہے۔ کسی کو اس کی حقیقت اپنی کوشش سے معلوم نہیں ہو سکتی ہاں جس کو وہ آپ ہی بتادے اور جس قدر بتا دے وہ اتنا جانتا ہے۔ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ اور تمام آسمانوں اور زمین پر اس کا علم حاوی 4 وَلَا يَوُدُهُ حِفْظُهُمَا پھر کوئی کہہ سکا ہے کہ اللہ تعالی نے چیزوں کا علم حاصل کرنے کے لئے اپنے درباری مقرر نہیں کئے ہوئے لیکن کام کرنے کے لئے ضرور کچھ مدد گار مقرر کئے ہوں گے کیونکہ دنیا کے بادشاہ فوج اور پولیس حفاظت کے لئے اور کاروبار کے لئے