انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 240

انوار العلوم جلد ۲ ۲۴۰ برکات خلافت الْحَيُّ الْقَيُّومُ پھر آقا ایسا بھی ہوتا ہے جو مرجاتا ہے مگر ہمارا آقادہ ہے جسے کبھی موت نہیں آسکتی۔ وہ اٹھی ہے اور ایسا آقا نہیں کہ اس سے کبھی قطع تعلق ہو جائے پھر وہ القیوم ہے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اب تو میرا یہ آتا ہے لیکن پہلے میں فلاں کے پاس ملازم رہ چکا ہوں اس لئے اس کا بھی مجھ پر احسان ہے اور مجھے اس کی قدر کرنی بھی ضروری ہے۔ خدا تعالی کہتا ہے کہ میں تمہارا آج خدا نہیں بنا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ سے خدا ہوں تم پر کسی کا پچھلا احسان نہیں ہے۔ میں وہ خدا ہوں جو ہمیشہ سے قائم رہنے والا اور تمہیں قائم رکھنے والا ہوں۔ اس لئے تم پر میرا ہی احسان ہے۔ قیوم کے دو معنے ہیں (۱) ہمیشہ سے قائم رہنے والا۔ (۲) سب کو قائم رکھنے والا۔ ہ وہ لَا تَأْخُذْهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْم کوئی کے کہ مان لیا خدا ایک ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور وہی ہمارا پہلے آقا تھا وہی اب ہے مگر کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدا کو نیند آئے اور وہ سو جائے تو اس وقت اس کی جگہ اس کے درباری کاروبار کریں اس لئے ہمیں انہیں بھی خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خوشامد کرنی چاہئے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے تمہارا وہ اللہ ہے کہ اس کو کبھی اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ تم اس کو دنیاوی بادشاہوں اور حاکموں کی طرح نہ سمجھو جہاں کہ تمہیں درباریوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ تمہارا رب ایسا نہیں کہ کبھی اسے اونگھ آئے یا وہ سو جائے وہ ہر وقت جاگتا ہے اور ہر ایک بات کا خود نگران ہے ۔ اس میں اللہ تعالی نے کیا ہی لطیف بات بیان فرمائی ہے فرمایا لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَو کہ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند - ترتیب کلام کا یہ قاعدہ ہے کہ پہلے چھوٹی باتوں کا ذکر ہوتا ہے اور پھر بڑی کا۔ اگر اس کے خلاف کیا جائے تو کلام غلط ہو جاتا ہے ۔ مثلاً یہ تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سخت بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو تھوڑا بھی بیمار نہ تھا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص تھوڑا بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو زیادہ بھی نہ تھا تو فقرہ غلط ہو جاتا ہے اس لئے پہلے بڑا اور پھر چھو ٹا درجہ کسی چیز کا بیان کیا جاتا ہے مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند حالانکہ جب اونگھ کی نفی کر دی گئی تھی تو نیند کی خود ہی نفی ہو گئی پھر نیند کی نفی کی کیا ضرورت تھی۔ لیکن خدا تعالی کا کلام کبھی لغو نہیں ہوتا اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ سنہ اس کو کہتے ہیں کہ جب سخت نیند کی وجہ سے انسان کی آنکھیں بند ہو جائیں ۔ چنانچہ جب انسان کو بہت زیادہ نیند آئی ہوتی ہے اس وقت اونگھ آتی ہے