انوارالعلوم (جلد 2) — Page 239
انوار العلوم جلد ۲ ۲۳۹ برکات خلافت مثلاً پانی ایک بہت ضروری چیز ہے مگر لوگ اسے سنبھال سنبھال کر نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس وقت اس کی ضرورت پڑے گی اسی وقت مل جائے گا۔ ہو ا صحت کے لئے کیسی ضروری چیز ہے مگر کوئی انسان اس کو سنبھالتا نہیں کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ جب اس کی ضرورت ہوگی تو وہ خود ہی ناک اور منہ کے راستہ اندر چلی جائے گی۔ لیکن یہی پانی جس کی عام طور پر قدر نہیں کی جاتی اور کوئی قیمتی چیز معلوم نہیں ہوتا ایک ایسے جنگل میں جہاں پانی کا نام و نشان نہ ہو نہایت قیمتی ہو جاتا ہے ۔ اور اگر اس وقت کسی کے پاس ایک گلاس پانی کا ہو تو وہ کروڑوں روپے پر بھی اسے نہیں دیتا۔ تو ہر ایک چیز کی قیمت اس کی ضرورت کے مطابق گھٹتی بڑھتی ہے۔ دیکھو غلہ جس وقت زیادہ ہوتا ہے اس وقت سستا ہوتا ہے اور جب کم ہوتا ہے تو مہنگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر دنیا میں کئی خدا ہوتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایک نہ ملاتو نہ سہی اور مل جائے گا۔ مگر :- اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ صرف ایک ہی اللہ ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ اس کو چھوڑ کر اور کسی کی تلاش کرلوں گا تو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ ایک ہی ہے دو نہیں، تین نہیں، چار نہیں، اور ہزاروں لاکھوں نہیں ۔ جب ایک ہی اللہ ہے تو اس کو چھوڑ کر اور کہاں جاؤ گے ۔ پھر ہر وقت تمہیں اس کی ضرورت ہے اور ہر لحہ تم اس کے محتاج ہو ۔ دنیا میں لوگ بادشاہوں کو ناراض کر لیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کیا ہوا اگر یہ بادشاہ ناراض ہو گیا تو اس کے ملک کو چھوڑ کر دوسرے کے ملک میں چلے جائیں گے بات ہی کونسی ہے چین کا بادشاہ اگر ظالم ہے تو ایران میں۔ ایران کا بادشاہ ظالم ہے تو انگلستان میں کوئی پناہ لے سکتا ہے۔ لیکن اللہ سے بھاگ کر کوئی کہاں جائے گا کیونکہ کوئی ایسی زمین نہیں ہے جو خدا کی نہ ہو اور کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جو خدا کے قبضہ میں نہ ہو ۔ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے کہ انسان اس کی مدد تلاش کرے۔ ہندوؤں کا خیال ہے کہ کئی خدا ہیں اور ان کے خداؤں میں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں چنانچہ لکھا ہے کہ ہونے ایک آدمی پر ناراض ہو کر اسے مار ڈالا لیکن وہ بر ہم خدا کا پیارا تھا اس نے کہا ہم پیدا کرنے والے ہیں ہم اس کو زندہ کرلیں گے بر جمانے اسے زندہ کر دیا ۔ غرض شو اسے مارتے جاتے اور برہما زندہ کرتے جاتے ہیں ان کا جھگڑا لگا رہا۔ یہ ہندوؤں کے خیالات ہیں مگر ہمارے ہاں تو ایسے خدا نہیں ہیں کہ ایک مارے تو دو سرا زندہ کر نے۔ ایک ناراض ہو تو دو سرا راضی ہو جائے۔ دیکھو ایک نوکر اپنے آقا کو جواب دے سکتا ہے کہ میں تمہاری نوکری نہیں کرتا کیونکہ نوکری اسے دوسری جگہ مل جاتی ہے۔ مگر ہم خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ایک ہی ہمارا آتا ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔