انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 228

۲۲۸ ساتھ کے ساتھ لوگوں کو پہنچتا جائے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو ہم نے آہستہ آہستہ اس لئے اتارا ہے کہ لوگوں کو یاد ہوتا جائے۔اسی طرح ہم بھی تھوڑا تھوڑا شائع کرتے رہیں گے تا کہ لوگ پڑھتے اور یاد کرتے جائیں۔اس کی کچھ کاپیاں لکھی ہوئی آچکی ہیں اور ترجمہ تو دوسرے پارہ کا بھی کسی قدر ہو چکا ہے۔انجمن ترقی اسلام اس کو چھپوا رہی ہے۔ہر فرد کو چاہئے کہ اپنا الگ اپنی بیوی کا الگ اپنے لڑکے لڑکیوں کا الگ الگ قرآن خریدے۔مدرسہ خط وکتا بت: جماعت کی علمی ترقی کے لئے ایک مدرسہ خط و کتابت کا کھولا جائے۔کیونکہ بعض ایسے لوگ ہیں جو یہاں قادیان میں رہ کر قرآن شریف نہیں پڑھ سکتے ان کے لئے کچھ اسباق تیار کئے جائیں جو ان کو آہستہ آہستہ بھیج دیئے جایا کریں اور جب ان کو وہ یاد کر لیا کریں تو پھر اور کچھ پرچے بھیج دیئے جایا کریں۔اور جو دقتیں لوگوں کو پیش آئیں انہیں خطوط کے ذریعے وہ حل کرالیں۔اور اس طرح گھر بیٹھے وہ کچھ نہ کچھ واقفیت بہم پہنچا لیں۔حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کا امتحان :حضرت مسیح موعودؑ کو اس بات کا شوق تھا کہ آپ کی کتب کا ایک کورس مقرر کیا جائے۔لوگ اسے یاد کیا کریں اور پھر سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک دن ان کے امتحان کا رکھا جائے اور ان سے سوالات پوچھے جایا کریں۔میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی یہ خواہش بھی رائگاں نہ جائے۔اور اس پر عمل ہونا شروع ہو جائے اوراگلے سال سے امتحان لینا شروع کردیا جائے۔کتاب ازالہ اوہام دونوں حصے غیر احمدیوں کے متعلق اور سرمہ چشم آریہ آریوں کے متعلق یہ دونوں کتابیں اس سال یاد کی جائیں۔جتنے احباب چاہیں اس میں حصہ لیں اور آئندہ جلسہ میں جن کو خدا تعالیٰ زندگی دے آئیں اور پھر جن کو خدا تعالیٰ امتحان کی توفیق دے وہ ان کتابوں کا امتحان دیں تا کہ جو غلطیاں ہوں وہ ان کو بتائی جائیں۔مختلف فیہا مسائل کا حل :میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ جماعت میں جو مختلف فیہامسائل ہیں ان کو حل کیا جائے۔میں اس کوشش میں ہوں کہ کچھ آدمی اس کام کے لئے مقرر کئے جائیں۔احمدیوں کے جو اعتقادات ہیں ان کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے حوالہ سے لکھ دیں تاکہ آئندہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔کیسے تعجب کی بات ہے کہ تیس سال کے بعد احمدی جماعت میں آج یہ جھگڑا پیدا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے یا نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس جھگڑے کے بانیوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کو نہیں پڑھا اور جب پڑھا تو یہ جان کر