انوارالعلوم (جلد 2) — Page 223
انوار العلوم جلد ۲ ۲۲۳ برکات خلافت وقت عرض کیا کہ جو لشکر شام کو جانے والا ہے اس کو آپ روک لیں کیونکہ تمام ملک میں فساد برپا ہو گیا ہے لیکن حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ جس لشکر کو آنحضرت ا نے روانہ کیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اچھا جو لوگ زکوۃ کے منکر ہیں ان سے صلح کر لیں پہلے دوسرے مرتدین سے جنگ ہو جائے تو رفتہ رفتہ ان کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ اول ضرورت نہیں ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ ان کا فتنہ سخت ہے۔ حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ اگر لوگ بکری کا بچہ یا اونٹ کے گھٹنہ باندھنے کی رسی کے برابر بھی زکوۃ کے مال میں سے ادا نہ کریں گے جو آنحضرت ا کو ادا کرتے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا اور اگر تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور جنگل کے درند نے بھی مرتدین کے ساتھ مل کر حملہ کریں گے تو میں ان سے اکیلا لڑوں گا۔ غرض زکوۃ کے حکم کو حضرت ابو بکڑ نے اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کے منکر سے کفار کا سا سلوک جائز رکھا ہے۔ مگر آج مسلمانوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ میں نے اندازہ کیا ہے کہ اگر ساری جماعت احمدیہ کی صرف زکوة ہی جمع کی جائے تو ایک لاکھ روپیہ کے قریب ہوتی ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ تو لوگوں کے پاس زیور ہوتا ہی ہے۔ ہاں وہ اشیاء جن پر گورنمنٹ ٹیکس وصول کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی نسبت فتوی دیا ہے کہ چونکہ گورنمنٹ ان پر ٹیکس وصول کر لیتی ہے اس لئے اب ان پر کوئی زکوۃ یا عشر نہیں لیکن میرے خیال میں بعض زمینوں پر گورنمنٹ جو مالیہ وصول کرتی ہے وہ شرعی عشر سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں گورنمنٹ کا مالیہ یا ٹیکس کم ہو وہاں بقیہ روپیہ اس شخص کو جس کے ذمہ وہ واجب ہو ادا کرنا چاہئے۔ مثلاً ایک زمین پر گورنمنٹ مالیہ لیتی ہو اور اس کا عشر دس روپیہ ہو تا ہو تو پانچ روپیہ اس کے مالک کو عشر کے طور پر یہاں ادا کرنے چاہئیں۔ اس انتظام کے لئے ہر ایک گاؤں اور شہر کی احمد یہ انجمنوں کے سیکرٹریوں کو اور جہاں سیکرٹری نہیں وہاں کسی اور کو ہی رجسٹر بنا لینے چاہئیں جس میں زیور اور دیگر زکوۃ والی چیزوں کو درج کیا جائے اور باقاعدہ زکوۃ وصول کی جائے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ پہننے والے زیوروں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ان پر زکوۃ دی جائے۔ لیکن اگر کوئی دے دے تو اچھا ہے۔ جو زیور نہیں پہنے جاتے ان کی زکوۃ ضرور دینی چاہئے ۔ زکوۃ کے متعلق ایک مفصل رسالہ لکھنے کے لئے میں نے کہہ دیا ہے اس میں سب قواعد اور ہدایات دی جائیں گی اس کے مطابق عمل ہونا چاہیئے ۔