انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 222

۲۲۲ اچھا لیکن جب وہ لوٹ کر چلا تو پھر آپ ؐ نے اسے واپس بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے گھر تک آذان کی آواز پہنچتی ہے؟ اس نے کہا حضور پہنچتی ہے۔آپؐ نے فرمایا جب آذا ن پہنچتی ہے تو مسجد میں حاضر ہوا کرو۔رسول کریم ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز با جماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں آتے۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کو نماز پڑھانے کے لئے کھڑا کر دوں اور اپنے ساتھ اور آدمیوں کو لے کر ان کے سر پر ایندھن رکھ کر سارے شہر میں سے ان لوگوں کو معلوم کروں جو نماز میں شامل نہیں ہوئے اور پھر آدمیوں سمیت ان کے گھر پھونک دوں۔دیکھو ایسا رحیم و کریم انسان ایسا مشفق اور مہربان انسان فرماتا ہے کہ جو جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان کو اور ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں۔اس حدیث سے نماز باجماعت کی عظمت کا خوب پتہ لگ جاتا ہے۔عشاء اور صبح کی نماز کی خصوصیت اس لئے فرمائی کہ یہ دونوں وقت سخت ہیں عشاء کے وقت لوگ نیند سے مجبور ہو کر سستی کرتے ہیں اور صبح کے وقت آنکھ کھلنی مشکل ہوتی ہے جب ان دونوں وقتوں کے متعلق ایسے تشدد کا اظہار فرمایا تو دوسرے وقتوں کی نمازوں کے باجماعت ادا کرنے کی تاکید آپ ثابت ہوگئی۔سچی اور حق بات یہی ہے کہ نماز باجماعت پڑھنے کے سوا جماعت بن ہی نہیں سکتی۔ا س لئے تم جہاں تک کوشش اور سعی کر سکوکرو اور با جماعت نماز ادا کرنے کی پابندی کرو۔اگر اور کوئی جماعت کے لئے نہ ملے تو گھر میں ہی خاوند بیوی بچوں کو پیچھے کھڑا کر کے نماز پڑھ لے۔اس طرح کم از کم نماز باجماعت پڑھنے کی عادت تو رہے گی۔پھر اﷲ تعالیٰ جماعت بھی بنا دے گا خدا تعالیٰ تمہیں ایسا کرنے کی توفیق دے۔زکوٰۃ پھر ایک بہت اہم مسئلہ زکوٰۃ کا ہے۔لیکن لوگوں نے اس کو سمجھا نہیں خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد اس کا حکم دیا ہے۔حضرت ابو بکر ؓ نے کہا کہ میں زکوٰۃ نہ دینے والوں سے وہی سلوک کروں گا جو آنحضرت ﷺ کفار سے کرتے تھے۔ایسے لوگوں کے مرد غلام بنا لوں گا اور ان کی عورتیں لونڈیاں۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ایسا ابتلاء آیا تھا کہ عرب کے تین شہروں مکہ ، مدینہ اور ایک اور شہر کے علاوہ سب علاقہ عرب کا مرتد ہو گیا تھا۔حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ سے اس