انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 5

انوار العلوم جلد ۲ کلمات طیبات اور تمہار ا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض وغایت کو عملی رنگ میں پورا کرنا ہے۔ پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو۔ تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔ تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔ اگر نعوذ باللہ کہوں کہ خدا ایک نہیں تو اسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضہ قدرت رت میں ہم سب کی جان ہے جو وحدہ لا شریک اور لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَي (الشورى : (١٢) ۱۲) ہے کہ میری ایسی بات ہر گز نہ ماننا۔ اگر میں تمہیں نعوذ باللہ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت مانیو ۔ اگر قرآن کریم کا کوئی نقص بتاؤں تو پھر خدا کی قسم دیتا ہوں مت مانیو۔ حضرت مسیح موعود نے جو خدا تعالی سے وحی پا کر تعلیم دی ہے اس کے خلاف کیوں تو ہرگز ہرگز نہ ماننا۔ ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امر معروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔ اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لوگے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یا د رکھو اللہ تعالٰی کا فضل ہماری دستگیری کریگا۔ ۔ اور میں اپنے موٹی کریم پر بہت بڑا بھروسہ رکھتا ہوں ہماری متحد دعا ئیں کامیاب ہوں گی مجھے یقین کامل ہے کہ میری نصرت ہوگی۔ پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا۔ اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے وعدہ کیا تھا۔ اني أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار (تذکرہ صفحہ ۴۲۷) یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا۔ شاید خدا کے مسیح کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔ اسی فکر میں میں کیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں درو دیوار کو دیکھتا تھا کمرے کی چیزیں نظر آرہی تھیں میں نے اسی حالت میں اللہ تعالٰی کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔ نیچے سے آتا ہے اور او پر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا۔ جو مجھے پلایا گیا جس کے بعد معا مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔ اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا۔ اس کا دوسرا حصہ اُس وقت میں نے نہیں سنایا اب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معا میری زبان سے نکلا میری امت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی"