انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 217

۲۱۷ خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُ ھُمْ فِیْ الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوا۔‘‘(بخاری کتاب الانبیاء باب قول اللّہ تعالی لقد کان فی یوسف و اخوتہ ایت للسائلین ) یعنی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضور لوگوں میں سے شریف کون ہے فرمایا جو اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ زیادہ کرتا ہے وہ زیادہ شریف ہے صحابہؓ نے عر ض کیا یا رسول اﷲ اس کے متعلق ہمارا سوال نہیں۔فرمایا پھر یوسف سب سے شریف ہے کہ وہ خود نبی تھا ا س کا باپ نبی اس کا دادا نبی خلیل اﷲ تھا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ہمارا اس کے متعلق بھی سوال نہیں۔آپ نے فرمایا تو کیا عرب کے قبائل و اقوام کے متعلق تمہارا سوال ہے اچھا تو سنو لوگ مختلف قبائل میں تقسیم ہیں (یا یہ کہ لوگ کانوں کی طرح ہیں )ان میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے اور شریف سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین کے مغز سے اچھی طرح واقف ہوں۔اس سوال و جواب میں رسول اﷲ ﷺ نے تین دفعہ صحابہ ؓ کے سوال کا جواب دیا ہے لیکن غور سے دیکھو تو تینوں جواب اصل میں ایک ہی ہیں اور گو آپ صحابہ کی خواہش پر اپنے جواب کو بدلتے رہے ہیں۔مگر مطلب سب جوابوں کا ایک ہی رہا ہے۔پہلے جواب میں آپ نے فرمایا کہ متقی ہی سب سے زیادہ شریف ہے دوسرے میں یوسف کو شریف قرار دیا اور وجہ یہ بتائی کہ وہ نبی تھے اور ایک نبی کے بیٹے اور ایک کے پوتے تھے۔گویا چونکہ وہ خود متقی تھے متقی کے بیٹے اور متقی کے پوتے تھے اس لئے وہ بڑے شریف تھے۔ا س جواب میں بھی شرافت کو تقوٰی کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے تیسرے جواب میں پھر اسی بات کو مدنظر رکھا ہے اور فرمایا کہ جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین میں تفّقہ پیدا کر لیں اور تفّقہ ایک ایسی چیز ہے جو نہایت اعلیٰ پایہ رکھتی ہے۔دین سیکھنا اور چیز ہے اور فقاہت فی الدین بالکل اور شۓ ہے فقاہت فی الدین سے یہ مراد ہے کہ اس کے مغز اور لب سے واقف ہو جائے۔پس یہ شرط لگا کر آپ نے پھر اسی طرف اشارہ فرمایا کہ شریف وہی ہے جو دین دار ہو اور متقی ہو اور دین کے مغز سے واقف ہو۔غرض تینوں جوابوں نے نہایت احسن پیرایہ میں اصل مطلب مسلمانوں پر روشن کر دیا تاکہ وہ صرف نسبی شرافت پر ہی نہ بھولے رہیں تقرب الی اﷲ کے حصول کے لئے بھی کوشاں رہیں۔ان جوابات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جو شخص نیک نہیں وہ خواہ کسی قوم کا ہو شریف نہیں کہلا سکتا۔شرافت کے لئے نیکی اور تقویٰ ضروری ہیں۔