انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 215

انوار العلوم جلد ۲ ۲۱۵ برکات خلافت شریف بعض کم بعض اور کم ہوتے ہیں اور یہ فرق بھی ضرور ہے مگر شریف کون ہوتا ہے؟ اس کے لئے فرمایا إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقُكُمُ الله تعالیٰ کے نزدیک تم میں اکرم وہی ہے جو اتقی ہو یعنی زیادہ نیک اور متقی ہو ۔ جس قدر کوئی شخص زیادہ خوف خدا کرتا ہے اسی قدر وہ زیادہ بزرگ اور نیک ہے اور اسی قدر زیادہ شریف ہے۔ اس سے ہمیں یہ پتہ لگ گیا کہ کچھ لوگ شریف ہوتے ہیں اور کچھ شریف نہیں ہوتے۔ اور شریف وہ ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک متقی اور پر ہیز گار ہوتے ہیں تو شریف اور وضیع کی شادی کرنا درست نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكَ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور: ۴) که زانی مرد زانی عورت یا مشرکہ سے نکاح کرے۔ اور زانی عورت زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرے یہ مؤمنوں کے لئے حرام کیا گیا ہے وہ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ تو واقعی ایک شریف اور وضیع کا گزارہ ہونا مشکل ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفة المسیح فرمایا کرتے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص اپنی عورت کو چھوڑ کر کنچنی کے پاس جایا کرتا تھا۔ اس عورت نے ایک دن ایک کنچنی کو بلا کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھر کی عورتوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آتے ہیں۔ اس نے کہا ہم ناز و نخرے کرتی ہیں۔ پاس بیٹھتا ہے تو لاتیں مارتی ہیں اور طرح طرح کے مخول اور مذاق ہوتے ہیں اس طرح خبیث مردوں کو مزہ آتا ہے اور وہ اور زیادہ ہماری طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔ جب اسے یہ معلوم ہو گیا۔ تو ایک دن جب اس کا خاوند گھر آیا اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی بیوی نے گالیاں دینی شروع کیں اور جب وہ ذرا قریب آیا تو ہاتھ سے بھی اس کی خبر لی۔ وہ اول تو حیران سارہ گیا کہ یہ آج کیا معاملہ ہے میری بیوی تو نهایت مطیع و فرمانبردار تھی آگے بات نہ کر سکتی تھی یہ تغیر کیا ہو گیا مگر پھر سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ اب میں سمجھ گیا اس کی بیوی نے اسے بہت ملامت کی کہ تم اس گند کو پسند کرتے ہو اور فرمانبردار بیوی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ غرض کہ یہ پختہ بات ہے کہ خبیث آدمی کو خبیث عورت پسند آتی ہے اور خبیث عورت خبیث مرد کو پسند کرتی ہے۔ اسی طرح طیب عورت اور مرد طیب کو ہی پسند کرتے ہیں اور اسی کے مطابق ان کا تعلق ہوتا ہے تب جا کر ان کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی دو چیزوں کا آپس میں اس وقت تک تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان کی آپس میں کچھ نسبت نہ ہو ۔ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی بیان فرماتے ہیں۔ کہ میں نے ایک جگہ کوا اور کبوتر اکٹھے بیٹھے دیکھے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی آپس میں کیا نسبت ہے کہ