انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 212

۳۱۲ مگر ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے اور اسی حد کے اندر رہنا ہی مفیدہوتا ہے۔کفو کے یہ معنی ہیں کہ اپنی حیثیت اپنے رنگ اپنی طرز کا آدمی ہو اور شریف اور متقی ہو۔مثلاً ایک شخص بڑا مال دار ہو اور وہ ایک غریب اور فاقہ کش کو لڑکی دے دے تو یہ رشتہ دین کے لحاظ سے تو درست اور جائز ہوگا مگر وہ لڑکی جس نے مال دار گھر میں پرورش پائی ہے۔جب اس کے گھر جائے گی تو ان میں رنجش اور ناراضگی پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ اس کو اخراجات کی اپنی عادت کے مطابق سخت تکلیف ہوگی اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک لڑکی والا اپنی حیثیت کے قریب قریب لڑکے کو دیکھ لے تا کہ بعدمیں میاں بیوی میں لڑائی ہی نہ ہوتی رہے یا کم سے کم لڑکی اپنے آ پ کو مظلوم اور دکھیانہ خیال کرتی رہے۔لیکن اس احتیاط کے اس قدر پیچھے بھی نہیں پڑنا چاہئے کہ ہر شخص یہی چاہے کہ میری لڑکی کسی امیر الامراء کے ہاں ہی جائے کیونکہ اس طرح غرباء کی شادیاں تو پھر ناممکن ہو جائیں ہر شخص اپنی حیثیت کو دیکھ لیا کرے اور اگر تھوڑا سا فرق بھی ہو تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کیونکہ فساد اسی رشتہ میں ہوتا ہے جس میں بہت بیّن فرق ہو۔مثلاً ایک امیر کی لڑکی کسی ایسے لڑکے سے بیاہ دی جائے جسے اس قدر بھی مقدرت نہ ہو کہ اسے دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا سکے پس یہ بھی ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ ایک شخص مثلاً آپ تو غریب حیثیت کا ہے لیکن اپنی لڑکی کے رشتہ کے لئے اس کی یہی کو شش رہے کہ کوئی بڑا عہدہ دار ملے تو اس سے نکاح کروں۔جیسا یہ خود ہے ویسے ہی کسی نیک آدمی سے لڑکی کا بیاہ کردے۔ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو کہا کہ میری لڑکی یا بہن (یاد نہیں کہ کیا رشتہ تھا)کے لئے کوئی رشتہ تلاش کروا دیں۔آپ نے جب چند نام بتائے تو اس نے کہا کہ نہیں میری لڑکی اس قابل نہیں۔اس کے لئے تو تحصیلدار یا اکسڑااسسٹنٹ کمشنر چاہئے یا کوئی اور ایسا ہی معزز عہدہ دار ہو۔حالانکہ یہ شخص خود بالکل معمولی حیثیت کا تھا اس طریق کو اختیار کرنے سے غرباء کے لئے سخت ابتلاء کا خوف ہے غیر احمدی تو احمدی کو تب ہی لڑکی دیتا ہے جب اسے خاص طور سے اپنے سے زیادہ آسودہ پاتا ہے کیونکہ اگر دنیاوی فائدہ نہ ہوتو اسے کیا ضرورت ہے کہ اپنی لڑکی کسی احمدی کو دے؟ الاماشاء اﷲ۔پس غرباء کو غیروں سے رشتہ ملنا تو محال ہے۔اب رہے اپنے وہ ایسے اعلیٰ درجہ کے خیالات رکھیں گے تو جماعت کا ایک حصہ سخت مصیبت میں پڑ جائے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ اگر کسی کو کوئی اچھا رشتہ ملے تو وہ اس سے انکار کر دے او ر کہہ دے کہ میں توکوئی غریب آدمی ہی تلاش کر کے اسے لڑکی دوں گا۔اگر خدا تعالیٰ کسی پر فضل فرماتا ہے تو وہ اس فضل کو رد نہ کرے۔لیکن میں اسے برا