انوارالعلوم (جلد 2) — Page 211
انوارا العلوم جلد ۲ ۲۱۱ برکات خلافت واقعات کئی ہوئے ہیں مگر ان کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہی ہوتا ہے کبھی دین کے لحاظ سے کبھی دنیا کے لحاظ ہے۔ الا ماشاء اللہ ۔ اکثر نکاح کے بعد خاوند اپنی بیویوں کو رکھ دینے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے عقائد کے چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے یا قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے بھی روکتے ہیں۔ چند سال ہوئے میں نے ایک شخص کی نسبت سنا کہ اس نے اپنی لڑکی کسی ایسے شخص سے بیاہ دی جو اس رشتہ کی خاطر بیعت میں داخل ہوا تھا۔ جب لڑکی اپنے سسرال میں گئی تو انہوں نے اسے طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ اگر وہ نماز پڑھتی تو کہتے کہ یہ ٹونے کرتی ہے اور اگر قرآن پڑھتی تو کہتے کہ ہم پر جادو کرتی ہے۔ وہ بیچاری نہ نماز پڑھ سکے اور نہ قرآن وہ شخص روتا پھرے کہ اب میں کیا کروں؟ مگر کوئی اسے کیا مدد دے سکتا تھا اپنے عمل کی سزا تھی جو اسے پہنچ رہی تھی۔ ایک اور نے لکھا کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک غیر احمدی سے کیا تھا اب وہ کہتا ہے کہ نہ میں اسے چھوڑتا ہوں اور نہ رکھتا ہوں یونہی تنگ کروں گا اور تمہیں دکھ پہنچاؤں گا۔ غرض کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے والے کبھی سکھ اور آرام نہیں پا سکتے بلکہ اس طرح وہ اپنی لڑکی کے دین کو خراب کر دیتے ہیں جس کا وبال ضرورا نہیں پر ہو گا۔ اور خود دکھ اور تکلیف میں جلتے رہتے ہیں پس جو شخص بھی دین دار ہو کر اپنی لڑکی دنیا دار کو دیتا ہے وہ کبھی آرام میں نہیں رہ سکتا۔ اور نہ ہی اس کی لڑکی آرام میں رہ سکتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اگر کوئی اپنی لڑکی کسی غریب سے غریب احمدی کو بھی دے گا تو لڑکی کا دین تو ضائع نہیں ہوگا۔ پھر حضرت مسیح موعود کا موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس پہلی تجویز پر عمل کیا جائے ۔ لیکن جماعت کو بہت بڑے ایثار کی ضرورت ہے۔ احمدیوں کو چاہئے کہ جب کوئی دین دار اور متقی لڑکا دیکھ لیں تو اگر وہ کسی قدر غریب بھی ہو تو بھی اسے لڑکی دے دیں۔ کیا رشتہ دار اپنے سے نسبتا غریب رشتہ داروں کو لڑکیاں نہیں دے دیا کرتے ؟ دیتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ احمدیوں کا احمدیوں سے زیادہ قریبی اور کون رشتہ دار ہو سکتا ہے ؟ یہ سب رشتوں اور قربوں سے بڑھ کر قرب ہے۔ پس تم پرانی رسموں کو ترک کر دو اور اس بات کی کوشش کرو کہ اگر تمہیں کوئی نیک اور سعید آدمی مل جائے تو قربانی کر کے بھی اس کو لڑکی دے دیا کرو۔ قومیت کی دقت شادیوں کے معاملہ میں ایک بڑی روک قومیت کی ہے۔ میں کفو کا قائل ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس کے متعلق زور دیا کرتے تھے ۔