انوارالعلوم (جلد 2) — Page 197
انوار العلوم جلد ۲ ۱۹۷ برکات خلافت هر سخن دکھتے و ہر نکتہ مقامی دارد۔ تو بعض اوقات ایک بات خراب ہوتی ہے اور بعض وقت وہی اچھی ہو جاتی ہے۔ سیاست سے جو مسیح موعود نے منع کیا ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کا موقع اور محل نہیں ہے اور خواہ گورنمنٹ اس کی اجازت بھی دیتی ہے تاہم یہ نا جائز ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہو گا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک دفعہ صوبہ کے ایک بڑے افسر سے حضرت صاحب ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ یوں تو آپ کسی کے پاس نہ جایا کرتے تھے لیکن انہیں اپنا مہمان سمجھ کر چلے گئے ۔ ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے گورنمنٹ کو فائدہ کو فائدہ پہنچے گا۔ ان افسر صاحب نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا خیال ہے ۔ آپ نے فرمایا میں اسے نہیں جانتا۔ خواجہ صاحب چونکہ اس کے ممبر تھے انہوں نے اس ۔ اس کے حالات عجیب پیرایہ میں آپ کو بتائے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاست میں دخل دیں ۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب! مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں بلکہ بہت مفید ہے ۔ آپ نے فرمایا ۔ بری کیوں نہیں ۔ ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب! شائد آپ نے کانگرس کا خیال کیا ہو گا۔ لیگ کا حال کانگرس کی طرح نہیں کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ کانگرس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا حضرت صاحب نے فرمایا ۔ آج آپ کا یہ خیال ہے تھوڑے دنوں کے بعد لیگ بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگرس کر رہی ہے۔ چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب مسلم لیگ بھی اس سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے جس کا کانگرس مدت سے مطالبہ کر رہی تھی گو دکھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق رکھا ہو ۔ غرض کہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہو گا لیکن حضرت صاحب نے ہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ پس خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب نے جو اپنی جماعت کو جائز حد تک بھی سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ سیاست بالذات بری ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس میں حصہ لینا بجائے فوائد کے نقصان کا باعث ہے چنانچہ میں اس امر کی مزید تشریح کرتا ہوں۔