انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 191

انوار العلوم جلد ۲ 191 برکات خلافت شاید کوئی شخص اعتراض کرے کہ یہ تعبیر تو اب بنائی جاتی ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ تعبیر کا علم واقعہ کے بعد ہی ہوتا ہے یہ خواب صاف ہے اور اس میں کوئی بیچ نہیں۔ ہر ایک شخص اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو تعبیر میں نے کی ہے اس کے سوا کوئی درست تعبیر نہیں ہو سکتی۔ یہ خواب میں نے حافظ روشن علی صاحب کو قبل از وقت سنادی تھی اور دوستوں کو بھی سنائی ہے لیکن ان کے نام یاد نہیں۔ جس طرح خلافت کے جھگڑے حضرت خلیفہ المسیح کی مسئلہ خلافت پر نویں آسمانی شهادت وفات آپ کی وصیت میری جانشینی کے متعلق اللہ تعالی نے قبل از وقت مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میرے مقابا ہو گا جو سخت فتنہ برپا کرے گا لیکن ناکام رہے گا۔ مقابلہ پر کون اس بات کو قریباً سات سال ہو گئے ۔ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ۱۹۰۲ء کے اکتوبر یا نومبر میں میں نے رویا دیکھی کہ میں بورڈنگ کے ایک کمرہ میں ہوں یا ریویو آف ریلیجنز کے دفتر میں وہاں ایک بڑے صندوق پر مولوی محمد علی صاحب بیٹھے ہیں اور میں ذرا فاصلہ پر کھڑا ہوں اتنے میں ایک دروازہ سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر داخل ہوئے اور ہم و ہے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میاں صاحب آپ لمبے ہیں یا مولوی صاحب ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ شیخ صاحب نے کہا آؤ دونوں کو نائیں۔ مولوی صاحب صندوق پر سے اترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی چار پائی پر سے مشکل سے اترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اترتے ہیں اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے ۔ میں نے کہا ہاں میں ہی اونچا ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں ان کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔ جتنا وہ اونچا کرتے جاتے اسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا آخر بڑی وقت سے انہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو ان کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچ سکیں۔ جس پر وہ سخت حیران ہوئے یہ خواب اس وقت کی ہے جب ان جھگڑوں کا وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا۔ سات سال کے بعد کے واقعات بتانا انسان کا کام نہیں میں نے یہ رویا اسی وقت سید سرور شاہ صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اس وقت بیروت (شام) میں ہیں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو جو میڈیکل