انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 190

انوار العلوم جلد ۲ ۱۹۰ برکات خلافت کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری تھی۔ کیونکہ انبیاء کی جماعتیں بھی ایک فوج ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالٰی دین کو غلبہ دیتا ہے۔ اس رویا کی بناء پر یہ بھی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالٰی تبلیغ کا کام جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے ہو گا اور غیر مبالغین احمدیوں کے ذریعہ نہ ہو گا۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ برکت مبالعین کے کام میں ہی ہو گی۔ اس رویا کا جب غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی زبردست شہادت معلوم ہوتی ہے کہ جس قدر غور کریں اس قدر عظمت الہی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس رویا میں حضرت مسیح موعود کولارڈ کچر کچر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر او مور کے سر او مور کرے کے نام ہے۔ اور جب ہم ان دونو افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچھر ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر او مور کرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو یہ بات تو پچھلی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سر او مور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اس سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالٰی نے اس کام پر مقرر فرمایا ۔ کیا کوئی سعید الفطرت انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ رویا شیطانی ہو سکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن تھا؟ کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو سنا دیتا اور پھر وہ صحیح بھی ہو جاتے ۔ یہ کون تھا جس نے مجھے یہ بتا دیا کہ حضرت مولوی صاحب مارچ میں فوت ہوں گے ۔ ۱۹۱۴ء میں ہوں گے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہوں گا۔ کیا خداتعالی کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس رویا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رویا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خار یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا۔ اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے ۔