انوارالعلوم (جلد 2) — Page 187
انوار العلوم جلد ۲ ۱۸۷ برکات خلافت عبد الرحمن خان صاحب ، میاں عبداللہ خان صاحب ، میاں عبدالرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رویا سنی ہوگی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رویا کو بیان کر دیا تھا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر سکتا۔ اول تو یہ کہ حضور کی وفات تپ سے ہو گی۔ دوم یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے۔ سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہو گی۔ چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہو گا۔ اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کردوں تو نا مناسب نہ ہو گا کہ اس رڈیا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہو سکتا تھا۔ اور یہ ایک ایسی بات تھی کہ جسے قبل از وقت کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن جب واقعات اپنے اصل رنگ میں پورے ہو گئے تو اب یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس رویا میں میری خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا لیکن چونکہ یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی اس لئے اس وقت جبکہ یہ رویا دکھلائی گئی تھی اس طرف خیال بھی نہیں جاسکتا تھا۔ مندرجہ بالا پانچ نتائج جو اس رویا سے نکالے گئے ہیں ان سے چار تو صاف ہیں یعنی تپ سے وفات کا ہوتا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔ تیسرے مارچ میں وصیت کا ہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی۔ پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔ لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں۔ تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل ، الحکم ، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس وقت بند تھا، پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں۔ سو اس امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئیے کہ رویا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر اہر ہوتا ہوتا ہے ہے اور اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اس طرح کی ہے اور جہاں اس رویا میں سے چار امور بالکل صاف اور