انوارالعلوم (جلد 2) — Page 186
انوار العلوم جلد ؟ ۱۸۶ برکات خلافت اب میں کیا کروں۔ اس رات میں بہت ہی گڑ گڑایا اور عرض کیا کہ الہی صبح کو یہ معاملہ پیش ہو گا حضور مجھے بتائیں کہ میں کسی طرف ہوں۔ اس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیں میں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔ پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قرآن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اس کے بعد مجھے تسلی ہو گئی اور میں نے خیال کیا کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ قل نے بتا دیا ہے کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکم الہی سنا دوں۔ اور اگر میرا عقیدہ غلط ہو تا تو یہ الفاظ ہوتے کہ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ میں نے یہ الفاظ کئی لوگوں کو سنا دیئے تھے۔ مگر اب یاد نہیں کہ کس کس کو سنائے تھے ۔ میں نے حضرت خلیفہ المسیح امسیح کی وفات سے تین مسئلہ خلافت پر پانچویں آسمانی شہادت سال پہلے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیریہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب کا بھی کچھ تعلق ہے۔ چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالی نے اس رویا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیسا زبردست ہے۔ ۱۹۱۳ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے مسئلہ خلافت پر چھٹی آسمانی شهادت شملہ گیا تھا۔ جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفہ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریبا دو بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں ( قادیان میں بیٹھا ہوں۔ مرزا عبد الغفور صاحب (جو کلانور کے رہنے والے ہیں) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے۔ انہوں نے انے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سودو (۱۰۲) کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔ جب میں نے یہ رویا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔ سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔ یہ رویا میں نے اس وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالبا نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں