انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 184

۱۸۴ مسئلہ خلافت کے متعلق دوسری آسمانی شہادت ۱۹۰۹ء کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اوّل کی خلافت کے قریباً پندرہویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہیے جس کے جواب میں میں نے اُن سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جب کہ ہم نے بیعت کر لی تو اب خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کریں گے۔جس کی بیعت کی اُس کے اختیا رات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں۔اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اُتر چکا تھا کہ جنوری ۱۹۰۹ء میں میں نے یہ رؤیا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اُس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے۔کڑیاں پڑ چکی ہیںان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور نثار احمد مرحوم (جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گا ہی لیکن ابھی وقت نہیں۔بڑے زور سے منع کرکے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لَوٹا ہوں لیکن تھوڑی دُور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھاگا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے اُنہوں نے آگ لگا دی تھی۔میں اس آگ میںکُود پڑا اور اسے میں نے بُجھا دیا لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے۔یہ خواب میں نے اُسی دن دوپہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنائی جو سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہوگئی ہے اور اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو دیئے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے۔اس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ رؤیا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رُقعہ پڑھ کر فرمایا کہ خواب پوری ہوگئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصّل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو۔جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔اس رؤیا کے گواہ مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ یہ رؤیا حرف