انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 180

۱۸۰ کیوں تحریر فرماتے۔’’میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا‘‘۔پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جب کہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا درد تو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مضر اثر سے بچ گئی ہے۔اب میں وہ شہادتیں پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اُٹھتا مگر ان الہامات اور رؤیا کی صداقت کیونکر ظاہرہوتی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے ربّ نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر بھی بجا لاؤں تھوڑا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبریں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازہ ہوا۔خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شہادتخلافت کے متعلق جس قدر جھگڑے ہیں ان کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ ہونا چاہیے یا نہیں۔اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب طَے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے پس سب سے پہلے میں اِسی کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔۸ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رؤیا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو ناپسند کرو لیکن وہ ؎ الوصیت صفحه ۲۹ - روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۲۷