انوارالعلوم (جلد 2) — Page 180
انوار العلوم جلد ۲ ١٨٠ برکات خلافت کیوں تحریر فرماتے ۔ " میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے ۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہو گا۔ “ سے پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جبکہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا۔ اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔ مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبورا اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا درد تو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مضراثر سے بچ گئی ہے۔ اب میں وہ شہاد میں پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔ گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اٹھتا مگر ان الہامات اور رویا کی صداقت کیونکر ظاہر ہوتی جو حضرت مسیح موعود کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے رب نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا۔ اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر بھی بجا لاؤں تھوڑا ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالی نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبریں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازه هوا خلافت کے متعلق جس قدر جھگڑے ہیں خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شهادت ان کی بنیاد اس مسلہ پر ہے کہ مسیح موعود کا خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں۔ اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب طے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے پس سب سے پہلے میں اس کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرنا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔ - مارچ ۱۹۰۷ ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رویا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْراً خَيْرٌ لَكُمْ یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو نا پسند کرو لیکن وہ مه الوصیت صفحه ۲۹ - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۲۷