انوارالعلوم (جلد 2) — Page 178
انوار العلوم جلد ۲ ۱۷۸ برکات خلافت صاحب انعام فرماتے تھے تو وہ الہام کیونکر پورا ہو تا خصوصا وہ شخص کہ جس کو مخاطب کر کے آپ نے اپنا یہ الہام سنایا۔ (۵) ایک ۱۳ ۱۳ار مارچ ۱۹۰۷ ء کا الہام ہے ۱۳ مارچ کو ہی حضرت خلیفۃ المسیح الاول فوت ہوئے۔ ۱۳ مارچ کو ہی لاہور سے ٹریکٹ شائع ہوا۔ اگر یہ ٹریکٹ شائع نہ ہو تا تو یہ الہام کہ ”لاہور میں ایک بے شرم ہے " کس طرح پورا ہوتا۔ (تذکرہ: صفحہ ۷۰۴ ایڈیشن چهارم) (1) کہتے ہیں۔ پہلے ہمیں نیک کہا جاتا تھا اب کیوں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ نیک بد اور بد نیک ہو جاتے ہیں مبارک انسان رہی ہے جس کا انجام بخیر ہو ۔ پھر اگر اس فتنہ میں بعض لوگ شامل نہ ہوتے جن کو ہم پہلے صالح سمجھا کرتے تھے اور جن کے نیک ارادے ہوا کرتے تھے تو حضرت مسیح موعود کا یہ کشف کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو رویا میں کہا۔ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ ۔ (جون ۱۹۰۴ء البدر جلد ۳ نمبر ۲۹) کیونکر پورا ہو تا۔ (۷) پھر اگر کوئی لاہور میں ۱۹۰۹ء میں لاہور کی جماعت کو جمع کر کے ان سے اس بات کے لئے انگوٹھے ہے نہ لگواتا اور دستخط نہ کروا تا کہ خلیفة المسیح کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ اصل خلیفہ انجمن ہی ہے۔ تو حضرت مسیح موعود کا یہ رویا کس طرح پورا ہوتا۔ کہ چھوٹی مسجد کے اوپر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اس پر بیٹھا ہوا ہوا ہوں۔ اور میرے ساتھ ہی مولوی نور الدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ہیں ایک شخص (اس کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں دیوانہ وار ہم پر حملہ کرنے لگا۔ میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو۔ اور اس کو سیڑھیوں سے نیچے اتار دیا ہے ۔ وہ بھاگتا ہوا چلا گیا۔ اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔ (۸) پھر میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے دوران میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان پر حملہ نہ کیا جاتا۔ (اور حضور کے اہل بیت کے مقابلہ میں بد زبانی کی تلوار نہ کھینچی جاتی تو یہ الہام کہ "اے میرے اہل بیت! خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے " (۲ مارچ ۱۹۰۷ء - تذکرہ صفحہ ۷۰۰ ایڈیشن چهارم) کس طرح پورا ہوتا۔ اگر کوئی شر کھڑا ہی نہیں ہونا تھا۔ تو خدا تعالیٰ نے یہ کیوں کہا تھا ؟ (۹) پھر اگر ان کے چال چلن پر حملہ نہ کیا جاتا تو اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ ا هِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَ كُمْ تَطْهِيرًا اے اہل بیت خدا تعالیٰ نے تم سے ناپاکی دور کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اور تم کو ایسا پاک کرے گا جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے ۔ (۲ مارچ ۱۹۰۷ء - تذکرہ صفحہ ۷۰۰ ایڈیشن