انوارالعلوم (جلد 2) — Page 177
انوار العلوم جلد ۲ ١٧٧ برکات خلافت متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور بد گمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتا فوقتا ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے ۔ پس مقام خوف ہے" (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۴) اگر یہ بات جو روز ازل سے مقدر ہو چکی تھی اور جس کی خبر حضرت مسیح موعود کو وقتا فوقتاً دیجاتی تھی اس وقت اس طرح پوری نہ ہوتی کہ جو بڑے تھے وہ چھوٹے نہ کئے جاتے اور وہ جماعت جس کو دبایا جاتا تھا اس کو بڑھایا نہ جاتا تو کس طرح اس کی صداقت ثابت ہوتی۔ (۳) پھر اگر جماعت احمدیہ کے دو گروہ نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کس طرح پورا ہوتا۔ کہ خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہو گا۔ پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے گےا۔ اپریل ۱۹۰۷ء تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۷۱۵ ) یعنی جماعت کے دو گروہ ہو جائیں گے۔ اور ان میں سے خدا ایک کے ہی ساتھ ہو گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس سے مراد احمدی اور غیر احمدی ہیں اور اللہ تعالی خبر دیتا ہے کہ وہ اس اختلاف میں احمدیوں کے ساتھ ہو گا تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اس سے احمدی اور غیر احمدی مراد ہیں تو الہام اس طرح ہونا چاہئے تھا۔ کہ " اللہ ایک کا ہے " نہ کہ ” ایک کا ہو گا کیونکہ حضرت صاحب کا الہام ہے - إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اهْلِكَ وَمَعَ كُلِّ مَنْ أَحَبَّكَ - ( ترجمہ ) میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ اور ان تمام کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں یا رکھیں گے ۔ (۹- جون ۱۹۰۵ء - تذکرہ ایا تذکرہ ایڈیشن چهارم صفحہ ۵۵۴) یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت احمدیوں کے ساتھ ہے۔ مگر اس الہام کا لفظ " ہو گا ثابت کرتا ہے۔ کہ اللہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک کا ہو گا۔ جس ۔ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس الہام میں احمدی جماعت کے دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ پس اگر موجودہ فتنہ نہ ہو تا تو یہ الہام کس طرح پورا ہوتا ؟۔ ( ۴ ) پرده ) پھر وہ کہتے ہیں کہ کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ اور آر آپ کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ ایک وقت آپ ایسے ہی تھے ۔ لیکن کیا آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام یاد نہیں ہے جو کہ شیخ رحمت اللہ صاحب کے دعا کے عرض کرنے پر صبح کو حضرت مسیح موعود نے سنایا تھا۔ کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی تھی۔ اور مجھے یہ الہام ہوا ہے شَرٌّ الَّذِينَ أَنْعَمْتُ عَلَيْهِمْ - ( ترجمہ ) شرارت ان لوگوں کی جن پر انعام کیا تو نے - (٢) ۲۶۱-۰- مئی ۱۹۰۵ء - تذکره صفحه ۵۵۰ ایڈیشن چہارم) آج اگر اس فتنہ میں بعض وہ لوگ شامل نہ ہوتے جن پر حضرت