انوارالعلوم (جلد 2) — Page 171
۱۷۱ اور خلافت کبھی نہیں ملی۔امام حسنؓ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا۔تو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو ردّ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔اس شخص کو خدا کی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا اور وہ خدا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہتا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہوگا۔پس حضرت عثمانؓ کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اُتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھیننے کے درپے ہو جائے۔پس میں اب آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہوگا۔پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو اِنْشَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی میں کامیاب رہوں گا اور مجھے کسی کے مقابلہ کی خدا کے فضل سے کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔بعض باتیں ایسی ہیں جو کہ میں خود ہی سنا سکتا ہوں کسی کو کیا معلوم ہے کہ مجھ پر کتنا بڑا بوجھ رکھا گیا ہے بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام تک میں زندہ نہیں رہوں گا۔اُس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ جتنی دیر زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے جاتا ہوں۔جب میں نہ رہوں گا تو خدا تعالیٰ کسی اور کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا مجھے اپنی زندگی تک اس کام کی فکر ہے جو میرے سپرد خدا تعالیٰ نے کیا ہے بعد کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے ہی چلایا ہے اور وہی اس کا انتظام کرتا رہے گا۔خلافت کیا گدی بن گئی ہے؟وہ نادان جو کہتا ہے کہ گدی بن گئی ہے اس کو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تو یہ جائز ہی نہیں سمجھتاکہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو۔ہاں اگر خدا تعالیٰ چاہے مأمور کر دے تو یہ الگ بات ہے اور حضرت عمرؓ کی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے۔پھرکہا جاتا ہے کہ وصیت کے قول کو دیکھو چھ سال کا عمل کیا چیز ہوتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ چھ سال کیا ہوتے ہیں۔ہم مان لیتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک کے بارہ سَو سال کے زمانہ کا عمل بھی کوئی چیز نہیں ہوتا اور چھ سال کیا بلکہ اس سارے زمانہ کے عمل کی قربانی کرنے کے لئے ہم تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ نمونہ کہیں سے نہیں ملتا کہ کسی نبی کی وفات کے بعد ہی اس کی جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا ہو۔لیکن حضرت مسیح