انوارالعلوم (جلد 2) — Page 170
۱۷۰ دوستوں کی نعمتوں کو کوئی ردّ نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح ردّ کر دوں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو ردّ کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طُور پر گئے۔خدا تعالیٰ نے اُن کو فرمایا تھا کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈرگئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا چاہتے اور واپس چلے آئے۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزا دی کہ فرمایا اب تم سے کوئی شرعی نبی برپا نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔تو خدا تعالیٰ کی نعمت کو ردّ کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کس طرح ردّ کر دیتا۔مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کردے گا اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے ردّ کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔امام حسنؓ کا واقعہامام حسنؓ سے یہی غلطی ہوئی تھی جس کا بہت خطرناک نتیجہ نکلا۔گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اور وہ یہ کہ بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کا اعتقاد تھا اور میرابھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بننے کا حق نہ ہوگا۔حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے امام حسنؓ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جا سکتا اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ بھی حضرت عمرؓ کا سا ہی خیال رکھتے تھے یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے اُنہوں نے بعد میں معاویہؓ سے صلح کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسینؓ اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ایک دفعہ اُنہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔چنانچہ پھر کوئی سیّد کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے۔چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیّدوں کو حقیقی بادشاہت اور