انوارالعلوم (جلد 2) — Page 168
انوار العلوم جلد ۲ ۱۶۸ برکات خلافت عزت سنبھالی ہوئی تھی اس کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ ذلیل ہو گیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ کہ خلیفہ کی فورا ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سات آٹھ ماہ کے بعد جا کر اس کی حاجت پیش آتی ہے مگر مجھے اس معاملہ کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ کون بولنے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور کس نے منع کیا ہے۔ اس مسجد سے باہر جا کر مجھے ایک شخص نے سنایا کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ واقعی قادیان ہسپتال ہے اور اس میں رہنے والے سارے مریض ہیں۔ میں نے پوچھا یہ اس نے کیوں کہا۔ تو اس نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد علی بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان کو بولنے نہیں دیا گیا جس سے ان کی ہتک ہوئی ہے اس وقت مجھے اس بات کا علم ہوا۔ اور اگر اس وقت مجھے علم ہو جاتا تو میرا کیا حق تھا کہ میں کسی کو روک دیتا اور ایسا نہ کرنے دیتا۔ اور لوگوں کو مجھ سے اس وقت کون سا تعلق تھا ؟ جس کی وجہ سے وہ میری بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ اس وقت تک تو کوئی شخص جماعت، کا امام مقرر نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوا۔ اور وہ یہ کہ میں نے سنا کہ مولوی محمد علی ایک اور واقعہ صاحب قادیان کو چھوڑ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں آپ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ اپنی تکلیف مجھے لکھیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے میں نے لکھ کر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو دیا کہ آپ ان کے پاس لے جائیں۔ میں نے کسی ملازم وغیرہ کے ہاتھ خط دے کر اس لئے نہ بھیجا تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ کسی اور آدمی کے ہاتھ خط بھیجنے سے میری ہتک ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کو میں نے یہ بھی کہا کہ آپ جا کر ان سے پوچھیں کہ آپ یہاں سے کیوں جاتے ہیں ؟ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ بھلا ہم قادیان کو چھوڑ کر کہیں جاسکتے ہیں ؟ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے اسے پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔ جواب کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ میرے جانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ آج کل چونکہ بعض طبائع میں جوش ہے اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ کچھ عرصہ باہر رہوں تاکہ جوش کم ہو جائے ایسا نہ ہو پٹھانوں میں سے کوئی جوش میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے۔ لیکن اس خط میں زیادہ تر زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ہم قادیان چھوڑ کر کہاں جاسکتے ہیں ؟ میں تو چھٹی کے ایام باہر گزارنے کے لئے جاتا ہوں۔ اس کے بعد میں ان سے ملنے کے لئے ان کے گھر گیا۔ میرے ساتھ نواب صاحب بھی تھے ۔ جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھے تو کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں ۔ ترجمہ قرآن کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اصل