انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page xviii

انوار العلوم جلد ؟ 11 تعارف کتب ہو گا جو ۱۹۰۱ء سے لے کر وفات تک شائع ہوئیں اور پہلی تحریرات جو (1) بعد کی تحریرات کے خلاف ہوں۔ (۲) جن میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہوں کہ ان سے حضرت مسیح موعود کی نبوت میں کوئی نقص ثابت ہوتا ہو اور حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ کو ۱۹۰۱ء سے ترک کر دیا ہو انہیں منسوخ قرار دینا پڑے گا۔ فصل دوم میں آپ نے مولوی صاحب کے اس سوال کا جواب تحریر فرمایا کہ : حضرت مسیح موعود نبی تھے یا نہیں اگر تھے تو آپ کی نبوت کسی قسم کی تھی ؟"۔ اس کے جواب میں سب سے پہلے آپ نے نبی کی تعریف فرمائی اور ثابت کیا کہ قرآن کریم اور لغت عرب نے جو نبی کی تعریف کی ہے اس کی رو سے حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ فرمایا: آپ (حضرت مسیح موعود کی نبوت میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔ جو نبی اللہ کے لئے لغت و قرآن و محاورہ انبیائے گذشتہ سے لازمی معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی آپ کو کثرت سے امور غیبیہ سے خبر دی گئی اور پھر اہم تغیرات کے متعلق دی گئی جو انذار و بشارت دونوں حصوں پر مشتمل تھی۔ پھر یہ کہ آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا۔ پس آپ قرآن کریم و لغت و محاورہ انبیائے گذشتہ کے مطابق نبی تھے۔ لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود کو نبوت آنحضرت ا کی غلامی کے نتیجہ میں ملی تھی۔ اس لئے آپ نے اپنی تحریرات میں اپنی نبوت کے ساتھ چند اصطلاحات کو استعمال فرما کر انحضرت کی فضیلت تمام انبیاء پر ثابت فرمائی کہ خدا تعالیٰ نے خاص آنحضرت کو یہ امتیاز عطا کیا تھا کہ آپ کی اتباع سے امتی نبی پیدا ہوا"۔ اسی فصل میں حضور نے مولوی محمد علی صاحب کے حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے پیش کردہ حوالہ جات سے ثابت کیا کہ یہ آپ کی نبوت کی نفی نہیں بلکہ اثبات کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ مولوی محمد علی صاحب نے ان کو حضرت مسیح موعود کی دوسری تحریرات کی روشنی میں نہیں پڑھا۔ فصل سوم میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی نبوت پر قرآن واحادیث کے مزید (۲۰) دلائل دلا درج فرمائے اور اس الزام کو رد فرمایا کہ ہم حضرت مسیح موعود کو نبی مان کر آنحضرت ا کی نعوذ باللہ ہتک کرتے ہیں آپ نے فرمایا :